تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 49
اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿49﴾
- اِذْجب
- يَقُوْلُکہنے لگے
- الْمُنٰفِقُوْنَمنافق (جمع)
- وَالَّذِيْنَاور وہ جو کہ
- فِيْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں میں
- مَّرَضٌمرض
- غَرَّمغرور کردیا
- ھٰٓؤُلَآءِانہیں
- دِيْنُهُمْان کا دین
- وَمَنْاور جو
- يَّتَوَكَّلْبھروسہ کرے
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- فَاِنَّتو بیشک
- اللّٰهَاللہ
- عَزِيْزٌغالب
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ اِن لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے۔39 حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 39
یعنی مدینہ کے منافقین اور وہ سب لوگ جو دنیا پر ستی اور خدا سے غفلت کے مرض میں گرفتار تھے، یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بےسروسامان جماعت قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکرا نے کے لیے جارہی ہے، آپس میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے، مگر اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھونک رکھا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے اور آنکھوں دیکھے یہ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں۔