تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 62
وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿62﴾
- وَاِنْاور اگر
- يُّرِيْدُوْٓاوہ چاہیں
- اَنْکہ
- يَّخْدَعُوْكَتمہیں دھوکہ دیں
- فَاِنَّتو بیشک
- حَسْبَكَتمہارے لیے کافی
- اللّٰهُاللہ
- هُوَوہ
- الَّذِيْٓجس نے
- اَيَّدَكَتمہیں زور دیا
- بِنَصْرِهٖاپنی مدد سے
- وَبِالْمُؤْمِنِيْنَاور مسلمانوں سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے۔45 وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 45
یعنی بین الاقوامی معاملات میں تمہاری پا لیسی بزدلانہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ خدا کے بھروسہ پر بہادرانہ اور دلیرانہ ہونی چاہیے۔ دشمن جب گفتگوئے مصالحت کی خواہش ظاہر کرے، بےتکلف اس کے لیے تیار ہوجاؤ اور صلح کے لیے ہاتھ بڑھانے سے اس بنا پر انکار نہ کرو کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ صلح نہیں کرنا چاہتا بلکہ غداری کا ارادہ رکھتا ہے۔ کسی کی نیت بہر حال یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ واقعی صلح ہی کی نیت رکھتا ہو تو تم خواہ مخواہ اس کی نیت پر شبہ کر کے خونریزی کو طول کیوں دو۔ اور اگر وہ عذر کی نیت رکھتا ہو تو تمہیں خدا کے بھروسے پر بہادر ہونا چاہیے۔ صلح کے لیے بڑھنے والے ہاتھ کے جواب میں ہاتھ بڑھاؤ تاکہ تمہاری اخلاقی برتری ثابت ہو، اور لڑائی کے لیے اٹھنے والے ہاتھ کو اپنی قوت بازو سے توڑ کر پھینک دو تاکہ کبھی کوئی غدار قوم تمہیں نرم چارہ سمجھنے کی جرات نہ کرے۔