تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 80. Abasa · Ayah 10
Tafseerفَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ﴿10﴾
- فَاَنْتَتو آپ
- عَنْهُ تَلَهّٰىاس سے بےرخی برتتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس سے تم بے رُخی برتتے ہو۔ 2
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة عَبَس 2
یہی ہے وہ اصل نکتہ جسے رسول اللہ ﷺ نے تبلیغ دین کے معاملہ میں اس موقع پر نظر انداز کردیا تھا، اور اسی کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ابن ام مکتوم کے ساتھ آپ کے طرز عمل پر گرفت فرمائی، پھر آپ کو بتایا کہ داعی حق کی نگاہ میں حقیقی اہمیت کس چیز کی ہونی چاہیے اور کس کی نہ ہونی چاہیے۔ ایک وہ شخص ہے جس کی ظاہری حالت صاف بتارہی ہے کہ وہ طالب حق ہے، اس بات سے ڈر رہا ہے کہ کہیں وہ باطل کی پیروی کر کے خدا کے غضب میں مبتلا نہ ہوجائے، اس لیے وہ راہ راست کا علم حاصل کرنے کی خاطر خود چل کر آتا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کا رویہ صریحا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس میں حق کی کوئی طلب نہیں پائی جاتی، بلکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بےنیاز سمجھتا ہے کہ اسے راہ راست بتائی جائے۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کے درمیان دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ کون ایمان لے آئے تو دین کے لیے بہت مفید ہوسکتا ہے اور کس کا ایمان لانا دین کے فروغ میں کچھ زیادہ مفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ کون ہدایت کو قبول کر کے سدھرنے کے لیے تیار ہے اور کون اس متاع گراں مایہ کا سرے سے قدر دان ہی نہیں ہے۔ پہلی قسم کا آدمی، خواہ اندھا ہو، لنگڑا ہو، لولا ہو، فقیر بےنوا ہو، بظاہر دین کی طرف اسے توجہ کرنی چاہیے، کیونکہ اس دعوت کا اصل مقصد بندگان خدا کی اصلاح ہے، اور اس شخص کا حال یہ بتارہا ہے کہ اسے نصیحت کی جائے گی تو وہ اصلاح قبول کرلے گا۔ رہا دوسری قسم کا آدمی، تو خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی با اثر ہو، اس کے پیچھے پڑنے کی داعی حق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی روش علانیہ یہ بتارہی ہے کہ وہ سدھرنا نہیں چاہتا، اس لیے اس کی اصلاح کی کوشش میں وقت صرف کرنا وقت کا ضیاع ہے وہ اگر نہ سدھرنا چاہے تو نہ سدھرے، نقصان اس کا اپنا ہوگا، داعی حق پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔