تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 80. Abasa · Ayah 19
Tafseerمِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ﴿19﴾
- مِنْ نُّطْفَةٍ ۭایک نطفے سے
- خَلَقَهٗاس نے پیدا کیا اس کو
- فَقَدَّرَهٗپھر تقدیر مقرر کی اس کی
Translation · Tafheem-ul-Quran
نُطفہ کی ایک بُوند سے۔ 11 اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی، 12
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة عَبَس 11
یعنی پہلے تو ذرا یہ اپنی حقیقت پر غور کرے کہ کس چیز سے یہ وجود میں آیا ؟ کس جگہ اس نے پرورش پائی ؟ کس راستے سے یہ دنیا میں آیا ؟ اور کس بےبسی کی حالت سے دنیا میں اس کی زندگی کی ابتدا ہوئی ؟ اپنی اس اصل کو بھول کر یہ ہمچو ما دیگرے نیست کی غلط فہمی میں کیسے مبتلا ہوجاتا ہے اور کہاں سے اس کے دماغ میں یہ ہوا بھرتی ہے کہ اپنے خالق کے منہ آئے ؟ (یہی بات سورة یسین، آیات 77۔ 78 میں فرمائی گئی ہے)۔
سورة عَبَس 12
یعنی یہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں بن رہا تھا کہ اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ کیا ہوگا۔ اس کا قد کتنا ہوگا۔ اس کی جسامت کیسی اور کس قدر ہوگی۔ اس کے اعضاء کس حد تک صحیح وسالم اور کس حد تک ناقص ہوں گے۔ اس کی شکل و صورت اور آواز کیسی ہوگی۔ اس کے جسم کی طاقت کتنی ہوگی۔ اس کے ذہن کی صلاحیتیں کیا ہوں گی۔ کس سر زمین، کس خاندان، کن حالات اور کس ماحول میں یہ پیدا ہوگا، پرورش اور تربیت پائے گا اور کیا بن کر اٹھے گا۔ اس کی شخصیت کی تعمیر میں مورثی اثرات، ماحول کے اثرات اور اس کی اپنی خودی کا کیا اور کتنا اثر ہوگا۔ کیا کردار یہ دنیا کی زندگی میں ادا کرے گا، اور کتنا وقت اسے زمین پر کام کرنے کے لیے دیا جائے گا۔ اس تقدیر سے یہ بال برابر بھی ہٹ نہیں سکتا، نہ اس میں ذرہ برابر رد و بدل کرسکتا ہے۔ پھر کیسی عجیب ہے اس کی یہ جرات کہ جس خالق کی بنائی ہوئی تقدیر کے آگے یہ اتنا بےبس ہے اس کے مقابلہ میں کفر کرتا ہے۔