تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 20
Tafseerذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ﴿20﴾
- ذِيْ قُوَّةٍقوت والا
- عِنْدَنزدیک
- ذِي الْعَرْشِعرش کے مالک
- مَكِيْنٍبلند مرتبہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو بڑی توانائی رکھتا ہے، 15 عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّكْوِیْر 15
سورة نجم آیات 4۔ 5 میں اسی مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ ان ھو الا وحی یوحی۔ علمہ شدید القوی۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ اس کو زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے "۔ یہ بات درحقیقت متشابہات میں سے ہے کہ جبریل ؑ کی ان زبردست قوتوں اور ان کی اس عظیم توانائی سے کیا مراد ہے۔ بہرحال اس سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں میں بھی وہ اپنی غیر معمولی طاقتوں کے اعتبار سے ممتاز ہیں۔ مسلم، کتاب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے دو مرتبہ جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس شان میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ اس سے کچھ ان کی زبردست طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔