Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 19

Tafseer
  1. اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ﴿19﴾

    1. اِنَّهٗ لَقَوْلُبیشک یہ کلام
    2. رَسُوْلٍقاصد
    3. كَرِيْمٍعزت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے 14
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّكْوِیْر 14 اس مقام پر بزگ پیغامبر (رسول کریم) سے مراد وحی لانے والا فرشتہ ہے جیسا کہ آگے کی آیات سے بصراحت معلوم ہو رہا ہے۔ اور قرآن کو پیغام بر کا قول کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اس فرشتے کا اپنا کلام ہے، بلکہ " قول پیغامبر " کے الفاظ خود ہی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ اس ہستی کا کلام ہے جس نے اسے پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔ سورة الحاقۃ آیت 40 میں اسی طرح قرآن کو محمد ﷺ کا قول کہا گیا ہے اور وہاں بھی مراد یہ نہیں ہے کہ یہ حضور کا اپنا تصنیف کردہ ہے بلکہ اسے " رسول کریم " کا قول کہہ کر وضاحت کردی گئی ہے کہ اس چیز کو حضور خدا کے رسول کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں نہ کہ محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے۔ دونوں جگہ قول کو فرشتے اور محمد ﷺ کی طرف منسوب اس بنا پر کیا گیا ہے کہ اللہ کا پیغام محمد ﷺ کے سامنے پیغام لانے والے فرشتے کی زبان سے، اور لوگوں کے سامنے محمد ﷺ کی زبان سے ادا ہو رہا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن، جلد ششم، الحاقہ، حاشیہ 22)۔