Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 8

Tafseer
  1. فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ﴿8﴾

    1. فِيْٓمیں
    2. اَيِّ صُوْرَةٍجس صورت
    3. مَّا شَآءَچاہا
    4. رَكَّبَكَتجھے جو ڑدیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا؟ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاِنْفِطَار 4 یعنی اول تو اس محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بھی نا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ دوسرے، تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ جونہی تجھ سے کوئی خطا سر زد ہو وہ تجھ پر فالج گرا دے یا تیری آنکھیں اندھی کر دے، یا تجھ پر بجلی گرا دے۔ لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔