تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 9
Tafseerكَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ﴿9﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- بَلْبلکہ
- تُكَذِّبُوْنَتم جھٹلاتے ہو
- بِالدِّيْنِجزا وسزا کا دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہر گز نہیں، 5 بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا و سزا کو جھُٹلاتے ہو، 6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاِنْفِطَار 5
یعنی کوئی معقول وجہ اس دھوکے میں پڑنے کی نہیں ہے۔ تیرا وجود خود بتارہا ہے کہ تو خود نہیں بن گیا ہے تیرے ماں باپ نے بھی تجھے نہیں بنایا ہے، عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے بھی اتفاقاً تو انسان بن کر پیدا نہیں ہوگیا ہے، بلکہ ایک خدائے حکیم و توانا نے تجھے اس مکمل انسانی شکل میں ترکیب دیا ہے۔ تیرے سامنے ہر قسم کے جانور موجود ہیں جن کے مقابلے میں تیری بہترین ساخت اور تیری افضل و اشرف قوتیں صاف نمایاں ہیں۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو دیکھ کر تیرا سر بار احسان سے جھک جاتا اور اس رب کریم کے مقابلے میں تو کبھی نافرمانی کی جرات نہ کرتا۔ تو یہ بھی جانتا ہے کہ تیرا رب صرف رحیم و کریم ہی نہیں ہے، جبار وقہار بھی ہے۔ جب اس کی طرف سے کوئی زلزلہ یا طوفان یا سیلاب آجاتا ہے تو تیری ساری تدبیریں اس کے مقابلہ میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تیرا رب جاہل و نادان نہیں بلکہ حکیم و دانا ہے، اور حکمت و دانائی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جسے عقل دی جائے اسے اس کے اعمال کا ذمہ دار بھی ٹھہریا جائے۔ جسے اختیارات دیے جائیں اس سے حساب بھی لیا جائے کہ اس نے اپنے اختیارات کو کیسے استعمال کیا، اور جسے اپنی ذمہ داری پر نیکی اور بدی کرنے کی طاقت دی جائے اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا بھی دی جائے۔ یہ سب حقیقتیں تیرے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں اس لیے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنے رب کریم کی طرف سے جس دھوکے میں تو پڑگیا ہے اس کی کوئی معقول وجہ موجود ہے۔ تو خود جب کسی کا افسر ہوتا ہے تو اپنے اس ماتحت کو کمینہ سمجھتا ہے جو تیری شرافت اور نرم دلی کو کمزوری سمجھ کر تیرے سر چڑھ جائے اس لیے تیری اپنی فطرت یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ مالک کا کرم ہرگز اس کا موجب نہ ہونا چاہیے کہ بندہ اس کے مقابلے میں جری ہوجائے اور اس غلط فہمی میں پڑجائے کہ میں جو کچھ چاہوں کروں، میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
سورة الْاِنْفِطَار 6
یعنی دراصل جس چیز نے تم لوگوں کو دھوکے میں ڈالا ہے وہ کوئی معقول دلیل نہیں ہے بلکہ محض تمہارا یہ احمقانہ خیال ہے کہ دنیا کے اس دارالعمل کے پیچھے کوئی دارالجز نہیں ہے۔ اسی غلط اور بےبنیاد گمان نے تمہیں خدا سے غافل، اس کے انصاف سے بےخوف، اور اپنے اخلاقی رویے میں غیر ذمہ دار بنادیا ہے۔