تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 3
Tafseerوَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ﴿3﴾
- وَاِذَااور جب
- كَالُوْهُمْماپ کردیں وہ
- اَوْ وَّزَنُوْهُمْیا تول کردیں
- يُخْسِرُوْنَگھٹا کردیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب ان کو ناپ کو یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔ 2
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُطَفِّفِيْن 2
قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مذمت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا " انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھیراتے " (آیت 152)۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا " جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو " (آیت 35)۔ سورة رحمان میں تاکید کی گئی ہے " تولنے میں زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹا نہ دو "۔ (آیات 8۔ 9)۔ قوم شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اس کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور حضرت شعیب کے پے در پے نصیحتوں کے باوجود یہ قوم اس جرم سے باز نہ آتی تھی۔