Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 3

Tafseer
  1. وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ﴿3﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. الْاَرْضُزمین
    3. مُدَّتْپھیلادی جائے گی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی 2
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاِنْشِقَاق 2 زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ سورة طہ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ " اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پاؤ گے "۔ (آیات 106۔ 107)۔ حاکم نے مستدرک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ " قیامت کے روز زمین ایک دستر خوان کی طرح پھیلا دی جائے گی،۔ پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی "۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس دن تمام انسانوں کو جو روز اول آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالت الہی میں پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، گھاٹیاں اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے پورے کرہ زمین کو ایک میدان بنادیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔