Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 6

Tafseer
  1. سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ﴿6﴾

    1. سَنُقْرِئُكَہم جلد پڑھائیں گے آپ کو
    2. فَلَاپھر نہ
    3. تَنْسٰٓىبھولیں گے آپ
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْلٰی 7 حاکم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ جبریل وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضور بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصہ دہرانے لگتے تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ خاموشی سے سنتے رہیں، ہم آپ کو اسے پڑھوا دیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یاد ہوجائے گی، اس بات کا کوئی اندیشہ آپ نہ کریں کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھول جائیں گے۔ یہ تیسرا موقع ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کو وحی اخذ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے کے دو مواقع سورة طٰہٰ آیت 114۔ اور سورة قیامہ آیات 16 تا 19 میں گزر چکے ہیں۔ اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن جس طرح معجزے کے طور پر آنحضور ﷺ پر نازل کیا گیا تھا اسی طرح معجزے کے طور پر ہی اس کا لفظ لفظ آپ کے حافظے میں محفوظ بھی کردیا گیا تھا اور اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہنے دیا گیا تھا کہ آپ اس میں سے کوئی چیز بھول جائیں، یا اس کے کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا ہم معنی لفظ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوجائے۔