Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 7

Tafseer
  1. اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ﴿7﴾

    1. اِلَّامگر
    2. مَاجو
    3. شَآءَ اللّٰهُ ۭاللہ چاہے
    4. اِنَّهٗبیشک
    5. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    6. الْجَهْرَظاہر
    7. وَمَااور جو
    8. يَخْفٰىپوشیدہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، 8 وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جوکچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی۔ 9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْلٰی 8 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہوجانا آپ کی اپنی قوت کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھلا سکتا ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ، (بنی اسرائیل، 86) " اگر ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تمہیں عطا کیا ہے "۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ کو نسیان لاحق ہوجانا اور آپ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنی ہے۔ وعدہ جس بات کا کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ مستقل طور پر قرآن کے کسی لفظ کو نہیں بھول جائیں گے۔ اس مفہوم کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ قرات کے دوران میں ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی بن کعب نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے ؟ حضور نے فرمایا نہیں، میں بھول گیا تھا۔ سورة الْاَعْلٰی 9 ویسے تو یہ الفاظ عام ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے خواہ وہ ظاہر یا مخفی۔ لیکن جس سلسلہ کلام میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جو قرآن کو جبریل ؑ کے ساتھ ساتھ پڑھتے جا رہے ہیں اس کا بھی اللہ کو علم ہے اور بھول جانے کے جس خوف کی بناپ آپ ایسا کر رہے ہیں وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ اس لیے آپ کو یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ اسے بھولیں گے نہیں۔