تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 14
Tafseerاِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ﴿14﴾
- اِنَّ رَبَّكَبیشک تمہارا رب
- لَبِالْمِرْصَادِگھات میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَجْر 7
ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لیے گھات لگائے ہونے کے الفاظ تمثیلی استعارے کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ گھاٹ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کے لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے اسی وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی خبر لینے کے لیے کون کہاں چھپا ہوا ہے۔ انجام سے غافل، بےفکری کے ساتھ وہ اس مقام سے گزرتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان ظالموں کی ہے جو دنیا میں فساد کا طوفان برپا کیے رکھتے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ خدا بھی کوئی ہے جو ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے۔ وہ پوری بےخوفی کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ شرارتیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ تعالیٰ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا اسی وقت ان پر اچانک اس کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔