Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 16

Tafseer
  1. وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ﴿16﴾

    1. وَاَمَّآ اِذَااور جب
    2. مَا ابْتَلٰىهُاسے آزمائے
    3. فَقَدَرَاندازہ سے دیتا ہے
    4. عَلَيْهِاس پر
    5. رِزْقَهٗاس کا رزق
    6. فَيَقُوْلُتو وہ کہے
    7. رَبِّيْٓمیرا رب
    8. اَهَانَنِمجھے ذلیل کیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا۔ 9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَجْر 9 یعنی یہ ہے انسان کا مادہ پرستانہ نظریہ حیات۔ اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ یہ چیز ملے تو پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے عزت دار بنادیا، اور یہ نہ ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کردیا۔ گویا عزت اور ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے۔ دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ مفلس اور تنگ حال بنایا ہے تو اس میں بھی اس کا امتحان ہے کہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے، یا اخلاق و دیانت کی ہر حد کو پھاند جانے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اپنے خدا کو کو سنے لگتا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 89 : 16