Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 27

Tafseer
  1. یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ﴿27﴾

    1. يٰٓاَيَّتُهَااے
    2. النَّفْسُروح
    3. الْمُطْمَئِنَّةُاطمینان والی
Translation · Tafheem-ul-Quran
(دُوسری طرف ارشاد ہوگا)اے نفسِ مطمئن، 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَجْر 18 نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک و شبہ کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہ لا شریک کو اپنا رب اور انبیاء کے لائے ہوئے دین حق کو اپنا دین قرار دیا، جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا، جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اس سے بادل ناخواستہ نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ رک گیا کہ فی الواقع وہ بری چیز ہے، جس قربانی کی بھی حق پرستی کی راہ میں ضرورت پیش آئی بےدریغ اسے پیش کردیا، جن مشکلات اور تکالیف اور مصائب سے بھی اس راہ میں سابقہ در پیش ہوا انہیں پورے سکون قلب کے ساتھ برداشت کیا، اور دوسرے راستوں پر چلنے والوں کو دنیا میں جو فوائد اور منافع اور لذائذ حاصل ہوتے نظر آ رہے تھے ان سے محروم رہ جانے پر اسے کوئی حسرت لاحق نہ ہوئی بلکہ وہ اس بات پر پوری طرح مطمئن رہا کہ دین حق کی پیروی نے اسے ان گندگیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی کیفیت کو دوسری جگہ قرآن میں شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے (الانعام، آیت 125)۔