تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 101
وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ﴿101﴾
- وَمِمَّنْاور ان میں جو
- حَوْلَكُمْتمہارے ارد گرد
- مِّنَسے۔ بعض
- الْاَعْرَابِدیہاتی
- مُنٰفِقُوْنَمنافق (جمع)
- وَمِنْاور سے۔ بعض
- اَھْلِ الْمَدِيْنَةِمدینہ والے
- مَرَدُوْااڑے ہوئے ہیں
- عَلَيپر
- النِّفَاقِنفاق
- لَا تَعْلَمُھُمْتم نہیں جانتے ان کو
- نَحْنُہم
- نَعْلَمُھُمْجانتے ہیں انہیں
- سَنُعَذِّبُھُمْجلد ہم انہیں عذاب دینگے
- مَّرَّتَيْنِدو بار
- ثُمَّپھر
- يُرَدُّوْنَوہ لوٹائے جائیں گے
- اِلٰىطرف
- عَذَابٍعذاب
- عَظِيْمٍعظیم
Translation · Tafheem-ul-Quran
تمہارے گر دو پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔97 قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، 98پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 97
یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔
سورة التَّوْبَة 98
دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔