Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 106

  1. وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿106﴾

    1. وَاٰخَرُوْنَاور کچھ اور
    2. مُرْجَوْنَوہ موقوف رکھے گئے
    3. لِاَمْرِ اللّٰهِاللہ کے حکم پر
    4. اِمَّاخواہ
    5. يُعَذِّبُھُمْوہ انہیں عذاب دے
    6. وَاِمَّااور خواہ
    7. يَتُوْبُ عَلَيْهِمْتوبہ قبول کرلے ان کی
    8. وَاللّٰهُاور اللہ
    9. عَلِيْمٌجاننے والا
    10. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کچھ دُوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے اُنہیں سزا دے اور چاہے اُن پر از سرِ نو مہربان ہو جائے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔101
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 101 یہ لوگ ایسے تھے جن کا معاملہ مشکوک تھا۔ نہ ان کے منافق ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا نہ گناہگار مومن ہونے کا ان دونوں چیزوں کی علامات ابھی پوری طرح نہ ابھری تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے معاملہ کو ملتوی رکھا۔ نہ اس معنی میں کہ فی الواقع خدا کے سامنے معاملہ مشکوک تھا، بلکہ اس معنی میں کہ مسلمانوں کو کسی شخص یا گروہ کے معاملہ میں اپنا طرز عمل اس وقت تک متعین نہ کرنا چاہیے کہ جب تک اس کی پوزیشن ایسی علامات سے واضح نہ ہوجائے جو علم غیب سے نہیں بلکہ حس اور عقل سے جانچی جاسکتی ہوں۔