تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 110
لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿110﴾
- لَا يَزَالُہمیشہ رہے گی
- بُنْيَانُھُمُان کی عمارت
- الَّذِيْجو کہ
- بَنَوْابنیاد رکھی
- رِيْبَةًشک
- فِيْمیں
- قُلُوْبِهِمْان کے دل
- اِلَّآمگر
- اَنْ تَقَطَّعَیہ کہ ٹکڑے ہوجائیں
- قُلُوْبُھُمْان کے دل
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلِيْمٌجاننے والا
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی( جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں۔105 اللہ نہایت با خبر اور حکیم و دانا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 105
یعنی ان لوگوں کو منافقانہ مکر و دغا کے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر کے اپنے دلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایمان کی صلاحیت سے محروم کرلیا ہے اور بےایمانی کا روگ اس طرح ان کے دلوں کے ریشے ریشے میں پیوست ہوگیا ہے کہ جب تک ان کے دل باقی ہیں یہ روگ بھی ان میں موجود رہے گا۔ خدا سے کفر کرنے لیے جو شخص علانیہ بت خانہ بنائے، یا اس کے دین سے لڑنے کے لیے کھلم کھلا مورچے اور دمدمے تیار کرے، اس کی ہدایت تو کسی نہ کسی وقت ممکن ہے، کیونکہ اس کے اندر راستبازی، اخلاص اور اخلاقی جرأت کا وہ جوہر تو بنیادی طور پر محفوظ رہتا ہے جو حق پرستی کے لیے بھی اسی طرح کام آسکتا ہے جس طرح باطل پرستی کے کام آتا ہے۔ لیکن جو بزدل جھوٹا اور مکار انسان کفر کے لیے مسجد بنائے اور خدا کے دین سے لڑنے کے لیے خدا پرستی کا پرفریب لبادہ اوڑھے، اس کی سیرت کو تو نفاق کی دیمک کھا چکی ہوتی ہے۔ اس میں یہ طاقت ہی کہاں باقی رہ سکتی ہے کہ مخلصانہ ایمان کا بوجھ سہار سکے۔