Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 46

Tafseer
  1. وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ﴿46﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. اَرَادُواوہ ارادہ کرتے
    3. الْخُرُوْجَنکلنے کا
    4. لَاَعَدُّوْاضرور تیار کرتے
    5. لَهٗاس کے لیے
    6. عُدَّةًکچھ سامان
    7. وَّلٰكِنْاور لیکن
    8. كَرِهَناپسند کیا
    9. اللّٰهُاللہ
    10. انْۢبِعَاثَهُمْان کا اٹھنا
    11. فَثَبَّطَهُمْسو ان کو روک دیا
    12. وَقِيْلَاور کہا گیا
    13. اقْعُدُوْابیٹھ جاؤ
    14. مَعَساتھ
    15. الْقٰعِدِيْنَبیٹھنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اُٹھنا پسند ہی نہ تھا47 اس لیے اس نے اُنھیں سُست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 47 یعنی بادل ناخواستہ اٹھنا اللہ کو پسند نہیں تھا۔ کیونکہ جب وہ شرکت جہاد کے جذبے اور نیت سے خالی تھے اور ان کے اندر دین کی سربلندی کے لیے جاں فشانی کرنے کی کوئی خواہش نہ تھی، تو وہ صرف مسلمانوں کی شرما شرمی سے بددلی کے ساتھ یا کسی شرارت کی نیت سے مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور یہ چیز ہزار خرابیوں کی موجب ہوتی جیسا کہ بعد والی آیت میں بتصریح فرما دیا گیا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 9 : 46