تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 5
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿5﴾
- فَاِذَاپھر جب
- انْسَلَخَگزر جائیں
- الْاَشْهُرُمہینے
- الْحُرُمُحرمت والے
- فَاقْتُلُواتو قتل کرو
- الْمُشْرِكِيْنَمشرک (جمع)
- حَيْثُجہاں
- وَجَدْتُّمُوْهُمْتم انہیں پاؤ
- وَخُذُوْهُمْاور انہیں پکڑو
- وَاحْصُرُوْهُمْاور انہیں گھیر لو
- وَاقْعُدُوْااور بیٹھو
- لَهُمْان کے لیے
- كُلَّ مَرْصَدٍہرگھات
- فَاِنْپھر اگر
- تَابُوْاوہ توبہ کرلیں
- وَاَقَامُوااور قائم کریں
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَاور زکوۃ ادا کریں
- فَخَلُّوْاتو چھوڑ دو
- سَبِيْلَهُمْان کا راستہ
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌرحیم
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس جب حرام مہینے گزر جائیں6 تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاوٴ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو انہیں چھوڑ دو۔7 اللہ درگزر کرنے والااور رحم فرمانے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 6
یہاں حرام مہینوں سے اصطلاحی اشہر حرُم مراد نہیں ہیں جو حج اور عمرے کے لیے حرام قرار دیے گئے ہیں۔ بلکہ اس جگہ وہ چار مہینے مراد ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ چونکہ اس مہلت کے زمانہ میں مسلمانوں کے لیے جائز نہ تھا کہ مشرکین پر حملہ آور ہوجاتے اس لیے انہیں حرام مہینے فرمایا گیا ہے۔
سورة التَّوْبَة 7
یعنی کفر و شرک سے محض توبہ کرلینے پر معاملہ ختم نہ ہوگا بلکہ انہیں عملًا نماز قائم کرنی اور زکوٰۃ دینی ہوگی۔ اس کے بغیر یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیا ہے۔ اسی آیت سے حضرت ابوبکر ؓ نے فتنہ ارتداد کے زمانہ میں استدلال کیا تھا۔ نبی ﷺ کی وفات کے بعد جن لوگوں نے فتنہ برپا کیا تھا ان میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم اسلام کے منکر نہیں ہیں، نماز بھی پڑھنے کے لیے تیار ہیں، مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ صحابہ کرام کو بالعموم یہ پریشانی لاحق تھی کہ آخر ایسے لوگوں کے خلاف تلوار کیسے اٹھائی جاسکتی ہے ؟ مگر حضرت ابوبکر ؓ نے اسی آیت کا حوالہ دے کر فرمایا کہ ہمیں تو ان لوگوں کو چھوڑ دینے کا حکم صرف اس صورت میں دیا گیا تھا جبکہ یہ شرک سے توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، مگر جب یہ تین شرطوں میں سے ایک شرط اڑائے دیتے ہیں تو پھر انہیں ہم کیسے چھوڑ دیں۔