Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 65

Tafseer
  1. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ﴿65﴾

    1. وَلَئِنْاور اگر
    2. سَاَلْتَهُمْتم ان سے پوچھو
    3. لَيَقُوْلُنَّتو وہ ضرور کہیں گے
    4. اِنَّمَاکچھ نہیں (صرف)
    5. كُنَّاہم تھے
    6. نَخُوْضُدل لگی کرتے
    7. وَنَلْعَبُاور کھیل کرتے
    8. قُلْآپ کہ دیں
    9. اَبِاللّٰهِکیا اللہ کے
    10. وَاٰيٰتِهٖاور اس کی آیات
    11. وَرَسُوْلِهٖاور اس کا رسول
    12. كُنْتُمْتم تھے
    13. تَسْتَهْزِءُ وْنَہنسی کرتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے ، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔73 ان سے کہو”کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 73 غزوہ تبوک کے زمانہ میں منافقین اکثر اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر نبی ﷺ اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنی تضحیک سے ان لوگوں کی ہمتیں پست کرنے کی کوشش کرتے تھے جنہیں وہ نیک تینی کے ساتھ آمادہ جہاد پاتے۔ چناچہ روایات میں ان لوگوں کے بہت سے اقوال منقول ہوئے ہیں۔ مثلا ایک محفل میں چند منافق بیٹھے گپ لڑا رہے تھے۔ ایک نے کہا ”اجی کیا رومیوں کو بھی تم نے کچھ عربوں کیطرح سمجھ رکھا ہے ؟ کل دیکھ لینا کہہ سب سورما جو لڑنے تشریف لائے ہیں رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔“ دوسرا بولا ”مزا ہو جو اوپر سے سو سو کوڑے بھی لگانے کا حکم ہوجائے ؟“ ایک اور منافق نے حضور کو جنگ کی سرگرم تیاریاں کرتے دیکھ کر اپنے یار دوستوں سے کہا ”آپ کو دیکھیے، آپ روم و شام کے قلعے فتح کرنے چلے ہیں“۔
Tafheem-ul-Quran - 9 : 65