Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 8

  1. كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ﴿8﴾

    1. كَيْفَکیسے
    2. وَاِنْاور اگر
    3. يَّظْهَرُوْاوہ غالب آجائیں
    4. عَلَيْكُمْتم پر
    5. لَا يَرْقُبُوْانہ لحاظ کریں
    6. فِيْكُمْتمہاری
    7. اِلًّاقرابت
    8. وَّاور
    9. لَا ذِمَّةًنہ عہد
    10. يُرْضُوْنَكُمْوہ تمہیں راضی کردیتے ہیں
    11. بِاَفْوَاهِهِمْاپنے منہ (جمع) سے
    12. وَتَاْبٰيلیکن نہیں مانتے
    13. قُلُوْبُهُمْان کے دل
    14. وَاَكْثَرُهُمْاور ان کے اکثر
    15. فٰسِقُوْنَنافرمان
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر اِن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دِل ان کے انکار کرتے ہیں10 اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّوْبَة 10 یعنی بظاہر تو وہ صلح کی شرطیں طے کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کا ثبوت تجربے سے اس طرح ملتا ہے کہ جب کبھی انہوں نے معاہدہ کیا توڑنے ہی کے لیے کیا۔ سورة التَّوْبَة 11 یعنی ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور نہ اخلاق کی پابندیوں کے توڑنے میں کوئی باک۔