تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 2
Tafseerوَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ﴿2﴾
- وَاَنْتَاور آپ
- حِۢلٌّاترے ہوئے
- بِهٰذَا الْبَلَدِاس شہر میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے، 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَلَد 3
اصل الفاظ ہیں " أَنْتَ حِلٌّ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ " اسکے تین معنی مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں اور آپ کے مقیم ہونے سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ یہ شہر حرم ہے مگر ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں جنگ کرنا اور دشمنان دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہوجائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس شہر میں جنگل کے جانوروں تک کو مارنا اور درختوں تک کو کاٹنا اہل عرب کے نزدیک حرام ہے اور ہر ایک کو یہاں امن میسر ہے، لیکن حال یہ ہوگیا ہے کہ اے نبی، تمہیں یہاں کوئی امن نصیب نہیں تمہیں ستانا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے، لیکن جب ہم آگے کے مضمون پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو معنی اس سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے اور تیسرا مفہوم ہی اس سے میل کھاتا ہے۔