Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 14

Tafseer
  1. فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ﴿14﴾

    1. فَكَذَّبُوْهُپھر اس کو جھٹلایا
    2. فَعَقَرُوْهَاپھر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں
    3. ١ فَدَمْدَمَپھر ہلاکت ڈالی
    4. عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْان پر۔ ان کا رب
    5. بِذَنْۢبِهِمْانکے گناہ کے سبب
    6. فَسَوّٰىهَاپھر انہیں برابر کردیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھُوٹا قرار دیا ااور اُونٹنی کو مار ڈالا۔ 10 آخر کار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے ربّ نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندِ خاک کر دیا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشَّمْس 9 قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح کو چلینج دیا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی (معجزہ) پیش کرو۔ اس پر حضرت صالح نے ایک اونٹنی کو معجزے کے طور پر ان کے سامنے حاضر کردیا اور ان سے کہا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے، یہ زمین میں جہاں چاہے گی چرتی پھرے گی، ایک دن سارا پانی اس کے لیے مخصوص ہوگا اور دوسرا دن تم سب کے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے رہے گا، اگر تم نے اس کو ہاتھ لگایا تو یاد رکھو کہ تم پر سخت عذاب نازل ہوجائے گا۔ اس پر کچھ مدت تک ڈرتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنے سب سے زیادہ شریر اور سرکش سردار کو پکارا کہ اس اونٹنی کا قصہ تمام کر دے اور وہ اس کام کا ذمہ لے کر اٹھ کھڑا ہوا (الا اعراف، آیت 73۔ الشعراء آیات 154 تا 156۔ القمر، آیت 29۔ سورة الشَّمْس 10 سورة اعراف میں ہے کہ اونٹنی کو مارنے کے بعد ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح سے کہا کہ اب لے آؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے تھے۔ (آیت 77) اور سورة ہود میں ہے کہ حضرت صالح نے ان سے کہا تین دن اپنے گھروں میں اور مزے کرلو، اس کے بعد عذاب آجائے گا اور یہ ایسی تنبیہ ہے جو جھوٹی ثابت نہ ہوگی (آیت 65)۔