Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 13

Tafseer
  1. وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى﴿13﴾

    1. وَاِنَّاور بیشک
    2. لَنَاہمارے لئے
    3. لَلْاٰخِرَةَآخرت
    4. وَاور
    5. الْاُوْلٰىدنیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں۔ 8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الَّیْل 8 اس ارشاد کے کئی مفہوم ہیں اور وہ سب صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا سے آخر تک تم کہیں بھی ہماری گرفت سے باہر نہیں ہو، کیونکہ دونوں جہانوں کے ہم ہی مالک ہیں، دوسرے یہ کہ ہماری ملکیت دنیا اور آخرت دونوں پر بہرحال قائم ہے خواہ تم ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔ گمراہی اختیار کرو گے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑو گے، اپنا ہی نقصان کرلو گے، اور راہ راست اختیار کرو گے تو ہمیں کوئی نفع نہ پہنچاؤ گے، خود ہی اس کا نفع اٹھاؤ گے۔ تمہاری نافرمانی سے ہماری ملک میں کوئی کمی نہیں ہوسکی اور تمہاری فرمانبرداری سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ تیسرے یہ کہ دونوں جہانوں کے مالک ہم ہی ہیں۔ دنیا چاہو گے تو وہ بھی ہم ہی سے تمہیں ملے گی اور آخرت کی بھلائی چاہو گے تو اس کا دینا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ یہی بات ہے جو سورة آل عمران آیت 145 میں فرمائی گئی ہے کہ " وَمَن يُرِدْ ثَوَاب الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا " " جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم آخرت میں سے دیں گے "۔ اور اسی کو سورة شوری آیت 20 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ " مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ " " جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے " (تشریح کے لیے ملاحظ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حاشیہ 105۔ جلد چہارم الشوری، حاشیہ 27)۔