تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 97. Al-Qadr · Ayah 3
Tafseerلَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ﴿3﴾
- لَيْلَةُ الْقَدْرِلیلۃ القدر
- خَيْرٌبہتر
- مِّنْسے
- اَلْفِ شَهْرٍہزار مہینے
Translation · Tafheem-ul-Quran
شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ 2
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القدر 2
مفسرین نے بالعموم اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اس رات کا عمل خیر ہزار مہینوں کے عمل خیر سے افضل ہے جن میں شب قدر شمار نہ ہو۔ اس میں شک ہیں کہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس رات کے عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ چناچہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ " جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ کے اجر کی خاطر عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے "۔ اور مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو شخص ان کے ا جر کی طلب میں عبادت کے لیے کھڑا رہا اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے گا "۔ لیکن آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ العمل فی لیلۃ القدر خیر من العمل فی الف شھر (شب قدر میں عمل کرنا ہزار مہینوں میں عمل کرنے سے بہتر ہے) بلکہ فرمایا یہ گیا ہے کہ " شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے " اور ہزار مہینوں سے مراد بھی گنے ہوئے 83 سال چار مہینے نہیں بلکہ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے وہ ہزار کا لفظ بلوتے تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام ہوا کہ کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی ایسا کام نہ ہوا تھا۔