تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 4
Tafseerوَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ﴿4﴾
- وَمَا تَفَرَّقَاور نہ جدا جدا ہوئے
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- اُوْتُوا الْكِتٰبَکتاب دئیے گئے
- اِلَّامگر
- مِنْۢ بَعْدِاسکے بعد
- مَاجب
- جَآءَتْهُمُانکے پاس آگئی
- الْبَيِّنَةُکھلی بات
Translation · Tafheem-ul-Quran
پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہِ راست کا) بیانِ واضح آچکا تھا۔ 6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة البینہ 6
یعنی اس سے پہلے اہل کتاب جو مختلف گمراہیوں میں بھٹک کر بیشمار فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ان کی رہنمائی کے لیے دلیل روشن بھیجنے میں کوئی کسر اٹھا رکھی تھی، بلکہ یہ روشن انہوں نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آجانے کے بعد اختیار کی تھی، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ داری تھے، کیونکہ ان پر حجت تمام کی جاچکی تھی۔ اسی طرح اب چونکہ ان کے صحیفے پاک نہیں رہے ہیں اور ان کی کتابیں بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں رہی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دلیل روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل پیش کر کے ان پر پھر حجت تمام کردی ہے، تاکہ اس کے بعد بھی اگر وہ متفرق رہیں تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہو، اللہ کے مقابلہ میں وہ کوئی حجت پیش نہ کرسکیں۔ یہ بات قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ البقرہ، آیات 213۔ 253۔ آل عمران 19۔ المائدہ 44 تا 50۔ یونس 93۔ الشوری 13 تا 15۔ الجاثیہ 16 تا 18۔ اس کے ساتھ اگر وہ حواشی بھی پیش نظر رکھے جائیں جو تفہیم القرآن میں ان آیات پر ہم نے لکھے ہیں تو بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔