تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 98. Al-Bayyina · Ayah 5
Tafseerوَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ﴿5﴾
- وَمَآ اُمِرُوْٓااور نہ حکم دیا گیا
- اِلَّامگر
- لِيَعْبُدُوا اللّٰهَیہ کہ عبادت کریں اللہ کی
- مُخْلِصِيْنَخاص کرتے ہوئے
- لَهُ الدِّيْنَاسکے لئے دین
- حُنَفَآءَیک رخ
- وَيُقِيْمُوااور قائم کریں
- الصَّلٰوةَنماز
- وَيُؤْتُوااور ادا کریں
- الزَّكٰوةَزکوۃ
- وَذٰلِكَاور یہ
- دِيْنُ الْقَيِّمَةِدین مضبوط
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یَکسُو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة البینہ 7
یعنی جس دین کو اب محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں، اسی دین کی تعلیم اہل کتاب کو ان کے ہاں آنے والے انبیاء اور ان کے ہاں نازل ہونے والی کتابوں نے دی تھی، اور ان عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ میں سے کسی چیز کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا جنہیں انہوں نے بعد میں اختیار کر کے مختلف مذاہب بنا ڈالے۔ صحیح اور درست دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کی جائے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے، ہر طرف سے رخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابع فرمان بن جائے، نماز قائم کی جائے، اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف حاشیہ 19۔ یونس حواشی 108۔ 109۔ جلد سوم، الروم حواشی 43 تا 47۔ جلد چہارم، الزمر حواشی 3۔ 4)
اس آیت میں دین القیمہ کے جو الفاظ آئے ہیں ان کو بعض مفسرین نے دین الملۃ القیمۃ یعنی " راست رو ملت کا دین " کے معنی میں لیا ہے اور بعض اسے اضافت صفت الی الموصوف قرار دیتے ہیں اور قیمۃ کی ہ کو علامہ اور فہامہ کی طرح مبالغۃ کی ہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔