Urwatul-Wusqaa - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو آپ ﷺ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے لیے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے
اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں : 10۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو تعلیم کرنا چھوڑ دیا جائے اور ہدایت ان کے سامنے پیش ہی نہ کی جائے یا یہ اتنے زور آور ہیں کہ اللہ میاں کے پاس ان کی ہدایت کی کوئی صورت نہیں یا اتنے منہ زور ہیں کہ اللہ کا قانون ان پر گرفت کر ہی نہیں سکتا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانا نہ لانا ان لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے آپ ﷺ پر ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے کوئی گرفت نہیں اور ان کی حالت ایسی ہے جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا آپ ﷺ ان کی حالت کے باعث دل تنگ نہ ہوں اور ہمارے قانون امہال سے آپ ﷺ بیزار نہ ہوں ان کی ہر حالت ہمارے قانون مشیت کے تحت ہے اور اس حکمت کو ہر آدمی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ہر آدمی کو اتنا ظرف نہیں ملا اس طرح گویا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے سارے لوگوں کو بات سمجھائی گئی ہے ۔
Top