Urwatul-Wusqaa - Yaseen : 15
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
قَالُوْا : وہ بولے مَآ اَنْتُمْ : تم نہیں ہو اِلَّا : مگر۔ محض بَشَرٌ : آدمی مِّثْلُنَا ۙ : ہم جیسے وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلَ : اتارا الرَّحْمٰنُ : رحمن (اللہ) مِنْ شَيْءٍ ۙ : کچھ اِنْ : نہیں اَنْتُمْ : تم اِلَّا : مگر ۔ محض تَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے ہو
وہ (قوم کے لوگ) بولے کہ تم تو بس ہماری ہی طرح کے انسان ہو اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا ہے تم تو محض جھوٹ بول رہے ہو (ہم تمہاری بات کیسے مان لیں)
انہوں نے کہا کہ تم تو تمہاری طرح کے بشر ہو اور بشر رسول کیسے ہو سکتا ہے ؟ : 15۔ اس بستی کے مستغرقن کو ان پر یہ بھی اعتراض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مخلوق کے ہادی و راہنما کیسے بنا دیئے گئے حالانکہ وہ سامنے نظر آرہے ہیں کہ اسی طرح کے وہ انسان ہیں جس طرح کے انسان ہم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دینے کے لئے اگر کسی کو آنا ہی تھا تو اس کے پاس فرشتوں کی کیا کمی تھی کہ وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیتا ہم تو یہی کہیں گے کہ ہو نہ ہو یہ تمہاری ہی گھڑی ہوئی بات ہے اور ان کا یہ اعتراض بالکل وہی اعتراض ہے جو ان سے پہلی قومیں پیش کرچکی تھیں اور ہم اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة ہود کی آیت 27 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 10 ‘ 11 ‘ جلد ششم سورة الانبیاء 32 ‘ سورة المومنون آیت 24 ‘ 33 ‘ 34 ‘ 37۔ اور سورة الشعراء کی آیت 154 ‘ 186 میں بیان کرچکے ہیں اس لئے وہیں سے مطالعہ کرلیں ۔
Top