تفسیرِ عثمانی

Tafseer-e-Usmani · 4. An-Nisaa · Ayah 41

  1. فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾

    1. فَكَيْفَپھر کیسا۔ کیا
    2. اِذَاجب
    3. جِئْنَاہم بلائیں گے
    4. مِنْسے
    5. كُلِّ اُمَّةٍہر امت
    6. بِشَهِيْدٍایک گواہ
    7. وَّجِئْنَااور بلائیں گے
    8. بِكَآپ کو
    9. عَلٰيپر
    10. هٰٓؤُلَآءِان کے
    11. شَهِيْدًاگواہ
Translation · Tafseer-e-Usmani
پھر کیا حال ہوگا جب بلاویں گے ہم ہر امت میں سے احوال کہنے والا اور بلاویں گے تجھ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والاف 1
Tafseer · Tafseer-e-Usmani
1 یعنی ان کافروں کا کیا براحال ہوگا جس وقت کہ بلائیں گے ہم ہر امت اور ہر قوم میں سے گواہ ان کے حالات بیان کرنے والا۔ اور ان کے واقعی معاملات ظاہر کرنے والا اس سے مراد ہر امت کا نبی اور ہر عہد کے صالح اور معتبر لوگ ہیں کہ وہ قیامت کو نافرمانوں کی نافرمانی اور فرمانبرداروں کی فرمانبرداری بیان کریں گے اور سب کے حالات کی گواہی دیں گے اور تم کو اے محمد ﷺ ! ان پر یعنی تمہاری امت پر مثل دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے احوال بتانے والا اور گواہ بنا کر لاویں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰـــؤلاء کا اشارہ انبیائے سابقین یا کفار مذکورہ بالا کی طرف ہو۔ اول صورت میں انبیاء مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ انبیائے سابقین کی صداقت پر گواہی دیں گے جب کہ ان کی امتیں ان کی تکذیب کریں گی اور دوسرے احتمال سے کفار مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ انبیائے سابقین جیسا اپنی اپنی امت کے کفار فساق کے کفر و فسق کی گواہی دیں گے تم بھی اے محمد ﷺ ان سب کی بداعمالی پر گواہ ہو گے جس سے ان کی خرابی اور برائی خوب محقق ہوگی۔
Tafseer-e-Usmani - 4 : 41