88. Al-Ghaashiyaالغاشية
The Overwhelming · Meccan · 26 ayahs · 1 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ﴿1﴾
کیا تمہیں اس واقعے (یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے جو سب پر چھا جائے گا ؟وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ﴿2﴾
بہت سے چہرے اس دن اترے ہوئے ہوں گے۔عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ﴿3﴾
مصیبت جھیلتے ہوئے، تھکن سے چور۔تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ﴿4﴾
وہ دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ﴿5﴾
انہیں کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایا جائے گا۔لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ﴿6﴾
ان کے لیئے ایک کانٹے دار جھاڑ کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ﴿7﴾
جو نہ جسم کا وزن بڑھائے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ﴿8﴾
بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ﴿9﴾
(دنیا میں) اپنی کی ہوئی محنت کی وجہ سے پوری طرح مطمئن۔فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ﴿10﴾
عالیشان جنت میں ہوں گےلَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ﴿11﴾
جس میں وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ﴿12﴾
اس جنت میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ﴿13﴾
اس میں اونچی اونچی نشستیں ہوں گی۔وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ﴿14﴾
اور سامنے رکھے ہوئے پیالے۔وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ﴿15﴾
اور قطار میں لگائے ہوئے گداز تکیے۔وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ﴿16﴾
اور بچھے ہوئے قالین۔اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ﴿17﴾
تو کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا ؟وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ﴿18﴾
اور آسمان کو کہ اسے کس طرح بلند کیا گیا ؟وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ﴿19﴾
اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا ؟وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ﴿20﴾
اور زمین کو کہ اسے کیسے بچھایا گیا ؟فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ﴿21﴾
اب (اے پیغمبر) تم نصیحت کیے جاؤ۔ تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو۔لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ﴿22﴾
آپ کو ان پر زبردستی کرنے کے لیے مسلط نہیں کیا گیا۔اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ﴿23﴾
ہاں مگر جو کوئی منہ موڑے گا، اور کفر اختیار کرے گا۔فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ﴿24﴾
تو اللہ اس کو بڑا زبردست عذاب دے گا۔اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ﴿25﴾
یقین جانو ان سب کو ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ع﴿26﴾
پھر یقینا ان کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔