Sunan An Nasai 7صحیح
روزہ دار شخص کے لئے تیسرے پہر تک مسواک
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں اپنی امت کے لیے باعث مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٨ (٨٨٧) ، موطا امام مالک/الطھارة : ٣٢ (١١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٤٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٥ (٢٥٢) ، سنن ابی داود/ فیہ ٢٥ (٤٦) ، سنن الترمذی/ فیہ ١٨ (٢٢) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧ (٢٨٧) ، موطا امام مالک/فیہ ٣٢ (١١٤) ، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٣٩٩، ٤٠٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٧ (٧١٠) ، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ فرمائیں ٥٣٥ (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی وجوبی حکم دیتا، رہا مسواک کا ہر نماز کے وقت مسنون ہونا تو وہ ثابت ہے، اور باب سے مناسبت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ حکم عام ہے، صائم اور غیر صائم دونوں کو شامل ہے، اسی طرح صبح، دوپہر اور شام سبھی وقتوں کو شامل ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 7
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would have commanded them to use the Siwak at (the time of) every Salah.” (Sahih)