Sunan An Nasai 4593ضعیف
سونے کے عوض چاندی لینا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ؟، قَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : ٹھہریے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ؟ میں بقیع میں دینار کے بدلے اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اسی دن کے بھاؤ سے لو تو کوئی حرج نہیں جب تک کہ تم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے پر کچھ باقی ہو ۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٨٦ (ضعیف )
قال الشيخ الألباني : ضعيف
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4589
It was narrated that Ibn Umar said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Wait, I want to ask you something. I sell camels in Al-Baqi with a price set in Dinars but I accept Dirhams instead. He said: There is nothing wrong with it if you take the price on that day, still unfinished business between you both (buyer and seller)