Sunan An Nasai 563صحیح
فجر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، جن میں عمر (رض) بھی ہیں اور وہ میرے نزدیک سب سے محبوب تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے ١ ؎، اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨١) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٩ (١٢٧٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠ (١٨٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤٧ (١٢٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٩٢) ، مسند احمد ١/ ١٨، ٢٠، ٣٩، ٥٠، ٥١، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: بخاری کی روایت میں حتى ترتفع الشمس ہے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ طلوع (نکلنے) سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے، اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 562
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "I heard more than one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - including Umar who was one of the dearest of them to me - that the Messenger of Allah ﷺ forbade praying after Fajr until the sun had risen, and praying after Asr until the sun had set.".