Sunan An Nasai 3308صحیح
دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: وَعِنْدَكَ أَحَدٌ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور (ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں) آپ ہمیں چھوڑ رہے (اور نظر انداز فرما رہے) ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی (شادی کے لائق) ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! حمزہ (رض) کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٣ (١٤٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٧١) ، مسند احمد (١/٨٢، ١١٤، ١٢٦، ١٣٢، ١٥٨) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3304
It was narrated that Ali (RA) said: "I said: O Messenger of Allah, why do you choose wives from among Quraish and not from among us? He said: Do you have anyone in mind? I said: Yes, the daughter of Hamzah. The Messenger of Allah said: She is not permissible for me (to marry); she is the daughter of my brother through breast-feeding.