شمائل نبویہ ﷺ

ابو معبد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

قریر کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے نزول کی ایک خبر سیرت کی کتابوں اور حدیث میں بہت مشہور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ام معبد کے خیمے کے پاس اترے (ٹھہرے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد سے ضیافت طلب کی تو ام معبد نے اپنے پاس کھانا نہ ہونے کا عذر پیش کیا اور کہا کہ ہمارے پاس ایک کمزور سی بکری ہے جو دودھ نہیں دیتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو پکڑا اور اس کے تھنوں کو اپنے ہاتھ سے پونچھا اور اللہ سے دعا کی ایک برتن میں اسے دوھا تو جھاگ ابھر آیا (برتن بھر گیا لبریز ہوگیا) سب اصحاب نے دودھ پیا اس روایت سے زیادہ صحیح ایک روایت سیدنا قیس بن نعمان سکونی نے اس طرح بیان کی ہے۔ ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپتے ہوئے کہیں جارہے تھے تو ابی معبد کے خیمے کے پاس اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مہمانی طلب کی) تو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم ہمارے پاس دودھ والی کوئی بکری نہیں ہے اور ہماری بکریاں سب حاملہ ہیں کوئی دودھ ہمارے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :وہ کمزور بکری کہاں ہے؟ ابو معبد:اس بکری کو لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : نے اس پر برکت کی دعا کی اور پھر ایک بہت بڑے پیالے میں دودھ دوہا تو اسے سب اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (جی بھر کر )پیا۔ ابو معبد:آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص ہیں جسے قریش صابی (بے دین) کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : بیشک وہ ایسا ہی کہتے ہیں ۔ ابو معبد:میں آپ کی پیروی کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : نہیں (ابھی نہیں )یہاں تک کہ تو سن لے کہ ہم غالب آگئے ہیں ابو معبد نے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرلی (یعنی مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غالب آنے کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گیا (اور ایمان لے آیا)۔ اسے بزاز نے حسن سند کیساتھ روایت کیا ہے)