شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلتوں کا بیان
1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِيرًا ﴾۔(سورۃ الاحزاب)
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک ہم نے تجھے گواہ ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والا اور روشن چراغ بناکر بھیجا ہے ایمانداروں کو خوشخبری دیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل (عطا کیاگیا ہے)۔
2۔ ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾۔
محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی آدمی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر (ختم کرنے والے) ہیں اور اللہ تعالی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ‘‘۔(اگرچہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نرینہ اولاد دی تھی۔مگر وہ بیٹے بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔)
3۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ۔
’’اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔
4۔و انا اکثر الانبیاء تبعا یوم القیامۃ۔وانا اول من یقرع باب الجنۃ۔ (رواہ مسلم )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:قیامت کے دن سب نبیوں سے زیادہ میرے پیروکار ہونگے اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤنگا۔
5۔ انا اول شفیع فی الجنۃ لم یصدق نبی من الانبیاء ما صدقت و ان نبیا من الانبیاء ما صدقہ من امتہ الا رجل واحد ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کے بارے میں میری سب سے پہلے سفارش قبول کی جائیگی ۔جتنی میری تصدیق کی گئی ہے اتنی تصدیق اور کسی نبی کی نہیں کی گئی اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں ہوگا جس کی امت(قوم) میں سے فقط ایک آدمی نے ہی اس کی تصدیق کی ہوگی۔
6۔ و قال صلی اللّٰہ علیہ وسلم سالت ربی ثلاثا ، فأعطانی ظنتین ، و منعنی واحدۃ سالت ربی ان لا یہلک امتی بالسنۃ فاعطانیہا واسالتہ ان لا یہلک امتی بالغرق فاعطانیہا وسالتہ ان لا یجعل باسہم بینہم فمنعنیہا۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے رب سے تین سوال کئے تو دو چیزیں مجھے عطا کر دی گئیں اور ایک چیز مجھ سے روک لی گئی۔ میں نے سوال کیا اے میرے رب میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہو تو اللہ نے اسے قبول کر لیا میں نے دوسرا سوال کیا کہ میری امت غرق ہوکر برباد نہ ہو یہ سوال بھی قبول کر لیاگیامیں نے تیسرا سوال کیا کہ ان کی آپس میں لڑائی نہ ہو تو تیسرا سوال قبول نہیں کیاگیا۔(رواہ مسلم ) ایک روایت میں ہے میں نے اللہ سے سوال کیا کہ کسی غیر مسلم دشمن کو ان پر مسلط نہ کیا جائے تو یہ سوال بھی قبول کر لیا گیا (رواہ الترمذی والنسائی ) اور البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح کہاہے)
مذکورہ حدیث پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ 1929ء میں خلافتِ عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد سے لے کر اب تک امت مسلمہ پر من حیث المموع غیر مسلم کفار و نصاریٰ اور ملحدیث کا تسلط چلا آ رہا ہے۔ اور صورتِ حال یہ ہیکہ چند علاقوں کے علاوہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر یہود و ہنود کا ظالمانہ تسلط قائم ہے۔ تقریباً پچاس ملک ایسے ہیں جن کے حکمران اگرچہ نام کے مسلمان ہیں مگر عملی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے وہ اتنے ہی دشمن ہیں جتنے غیر مسلم حکمران دشمن ہیں۔
یہ اعتراض بہت برمحل اور اس کا جواب بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا ایک حصہ ہے کہ تم دولتِ دنیا کے لالچ میں جب جہاد کو ترک کر دو گے تو تم پر ذلت مسلط ہو جائیگی۔ لہٰذا موجودہ ذلت و محکومی اسی پیشینگوئی کے مطابق ہے۔ ملت ِ مسلمہ نے اجتماعی طور پر جہاد کو ترک کیا تو اس کی سزا میں کافر قومیں انہیں برباد کر رہی ہیں۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں یہ ذکر کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اس سوال کو قبول کر لیا کہ مسلمانوں پر کفار کو مسلط نہیں کروں گا تو یہ بھی سو فیصد درست ہے۔ اس طرح کہ مجاہد مومنین نے روز اول سے آج تک کفار کا تسلط قبول کیا ہے اور نہ قیامت تک کفار کا تسلط قبول کریں گے۔ ان کا کفار کے خلاف جہاد جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ 1989ء سے جہاد میں جو شدت پیدا ہوئی ہے، اس سے یہود و ہنود اور ملحدیث و نصاریٰ کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ عیش و تجمل کے رسیا اور سیم و زر کے پجاری مسلمان جو جہاد سے خائف ہیں وہی کفار کی قوت سے لرزاں ہیں مگر سچا مسلمان مجاہد ان کے جنگی ساز و سامان، جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو مجھر کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا۔ کفار کی محکومی اور تسلط ان نام نہاد مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا ہے جو جہاد سے گریزاں ہیں۔ اور ان کی یہ ذلت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک یہ جہاد کو اختیار نہیں کریں گے۔ ہزاروں مسجدیں مسمار ہو رہی ہیں۔ لاکھوں عصمتیں لٹ رہی ہیں۔ لاکھوں گھر اور فیکٹریاں جلائی جا رہی ہیں مگر بے حس مسلمان اور حکمران انہی کو اپنا مسیحا سمجھ رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا در چھوڑ کر انہی ظالموں سے اپنی مشکلات کا حل تلاش کر ہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کرے۔ آمین۔ ؎
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
7۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ معراج کی حدیث میں بیان کرتے ہیں:’’اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل نہیں سوتا‘‘۔ (رواہ البخاری)۔
8۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردر ہوں گا۔ سب سے پہلے میری قبر کی زمین پھٹے گی۔ میں سفارش کروں گا تو میری سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ (رواہ مسلم)۔
9۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’چھ امور میں مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ 1۔ مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں (تھوڑے الفاظ میں زیادہ مفہوم و مطالب) 2۔ میرے لئے مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے (پہلی امتیں اپنا مالِ غنیمت ایک جگہ جمع کرتی تھیں۔ آسمان سے آگ آ کر اسے کھا جاتی تھی (جلا دیتی تھی) ان کے لئے مالِ غنیمت سے فائدہ اٹھانا حرام تھا۔ مترجم)
3۔ پوری زمین میرے لئے مسجد اور پاکیزہ بنا دی گئی ہے۔
4۔ میں پوری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
5۔ میرے ذریعے آئندہ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ (رواہ مسلم)۔
10۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’مجھے اولادِ آدم کے بہتر زمانوں میں ایک ایک قرن کے بعد بھیجا گیا ہے۔ اب میں آخری بہترین قرن (زمانے) میں بھیجا گیا ہوں‘‘۔ (اسے امام بخاری نے ذکر کیا ہے)۔
11۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک عمارت تعمیر کی ہو اسے بہت خوبصورت بنایا اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی۔ لوگ اس کے گرد گھوم کر خوش ہونے لگے اور کہنے لگے اس خالی جگہ میں اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی؟ (اگر اس خالی جگہ پر بھی اینٹ رکھ دی جاتی تو کیا ہی اچھا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں وہ اینٹ ہوں (میرے ذریعے قصرِ نبوت کی وہ خالی جگہ پر کر دی گئی ہے) اور میں نبیوں کی مہر (سلسلہء نبوت ختم کرنے والا) ہوں۔ (رواہ البخاری)۔
12۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجھے خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا حالانکہ آدم علیہ السلام ابھی اپنے مٹی کے ڈھانچے کے ساتھ زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اپنی پیدائش سے پہلے کے چند امور کی خبر دیتا ہوں۔ میرے لئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بعثت کی دعا کی تھی۔ عیسیٰ علیہ السلام نے میری بعثت کی خوشخبری دی تھی۔ میری پیدائش کے وقت میری والدہ کا خواب دیکھنا۔ اس کے لئے ایک نور نے نکل کر اس کے سامنے شام کے محلات روشن کر دیئے تھے۔ (اس روایت کو امام حاکم اور امام ذھبی نے صحیح کہا ہے۔ البانی نے اسے مشکوٰۃ میں صحیح کہا ہے)۔
13۔غارِ حرا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل امین آیا تو اس نے کہا: ﴿اِقْرَأ بِاِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق﴾ ’’اپنے رب کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف لوٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کان رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد کے پاس آگر انہیں واقعے کی خبر دی کہ مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے۔ اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ہرگز نہیں! اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں۔ یتیم کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ نادار کو عطا کرتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں۔ راہِ حق کے مصائب پر مدد کرتے ہیں۔ پھر اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ سے اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنئیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جو کچھ دیکھا تھا اس کی خبر دی۔ ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ وہی رازدان فرشتہ جبریل علیہ السلام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر ناز ل کیا تھا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قوم (مکہ سے) مکہ سے نکالے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بھلا وہ مجھے نکالنے والے ہیں؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں۔ جب بھی کوئی آدمی آپ کی طرح کا پیغام اور دعوت لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ مجھے پا لے (یعنی میں اس وقت زندہ ہوں) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست مدد کرونگا۔ (رواہ البخاری)
14۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت:
1۔سیدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے۔ وہ کبوتری کے انڈے کے برابر سرخ گلٹی تھی۔ (رواہ مسلم)۔
2۔سیدنا عبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا کھایا، پانی پیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کندھے کی جڑھ میں مہرِ نبوت کو دیکھا جیسے بند مٹھی ہوتی ہے۔ اس پر پستان کی بھٹنی (Nipples) کی طرح تل تھے۔
3۔جعد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: میری خالہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا کر عرض کیا: میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر میرے لئے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہو۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت چکور کے انڈھے کی طرح تھی۔ (متفق علیہ)۔