شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی صفت

1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی ۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَ مَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی ۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾ (النجم:4-1) ’’ستارے کی قسم جب وہ گرتا ہے۔ تمہارا ساتھی (نبی) نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ (دینِ حق کے بارے میں) اپنے خواہش سے کچھ نہیں بولتا۔ (وہ جو کچھ بھی کلام کرتا ہے) یقیناًوہ وحی ہوتی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ 2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ سے فرمایا: ’’لکھ لے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میرے منہ سے جو کچھ بھی نکلتا ہے وہ حق (سچا، صحیح) ہوتا ہے‘‘۔(حسن رواہ احمد) 3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :’’ مجھے جامع کلمات کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔ (یعنی میرے تھوڑے کلام میں معانی زیادہ ہوتے ہیں) میری رعب و دبدبہ کے ساتھ مدد کی گئی ہے نیند کے دوران میں نے دیکھا کہ روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں رکھ دی گئی ہیں‘‘۔(رواہ البخاری )(عہد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں روم و ایران دو بہت بڑی حکومتیں تھیں(Super Powers ) پوری دنیا پر ان کی حکمرانی تھی ۔ خلفآئے راشدین کے عہد میں ان کے خزانوں کے مجاہد مسلمان مالک ہوگئے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سو فیصد سچا ثابت ہوگیا تھا (مترجم) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رحلت فرما گئے اور اب تم ان خزانوں کو منتقل کررہے ہو۔ 4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح تیزی سے بات نہیں کرتے تھے ۔(جس کی سامع کو سمجھ نہ آئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جدا جدا کلمات کے ساتھ واضح بات کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے والے کو وہ بات اسی وقت یاد ہوجاتی تھی۔ (رواہ مسلم) ‘‘۔ 5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بات کرتے تھے اگر کوئی گننے والا چاہتا تو اس کے کلمات شمار کر سکتا تھا ۔(متفق علیہ) 6۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اختیار کرتے تھے (بلا ضرورت باتیں نہیں کرتے تھے) 7۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ کو تین مرتبہ دہراتے تھے تاکہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ (رواہ البخاری) جو کلمہ مشکل ہوتا اسے دہرا دیتے تھے یا اس سے آسان لفظ بول دیتے تھے) 8۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعاؤ ں کو پسند فرماتے تھے اور تھوڑے معانی والی دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔ 9۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطاب کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہوتی اور سخت غصے کی حالت میں ہوتے تھے جیسے وہ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں یا کسی لشکر کے حملے سے خبردار کر رہے ہوں کہ وہ تم پر صبح یا شام کو حملہ کرنے والا ہے (رواہ مسلم )(افادہ ۔موجودہ دور میں اکثر خطیب سریں لگ اکر آیات پڑھتے ہیں اور ان کا ترجمہ بھی لوچدار سروں سے کرتے ہیں اپنی خوش الحانی پر داد وصول کرتے ہیں ۔لطائف بیان کرکے سامعین کو ہنساتے ہیں انہیں سروں کی بین بجا کر مست کرتے ہیں بھلاکوئی کمانڈر اپنی فوج کو(Alert) چوکس کرنے کے لئے وارننگ دیتے ہوئے سریں لگاتا ہے ؟مذکورہ بالاطرزِ خطاب سراسر سنت نبوی کے خلاف ہے ……مترجم)