شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی

1۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَاَغْنٰی﴾ (سورۂ الضحیٰ آیت:8) ’’اور تجھے تنگدست پایا تو تجھے غنی کر دیا‘‘۔ یعنی تو محتاج عیال دار تھا تو تجھے اپنے علاوہ ہر غیر سے بے نیاز کر دیا۔ (تفسیر ابن کثیر)۔ 2۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم آپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پرایک پورا مہینہ گذر جاتا تھا۔ (کھانا پکانے کے لئے) ہم آگ نہیں جلاتے تھے۔ ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں کھجوریں اور پانی۔ البتہ ہمارے ارد گرد کچھ انصاریوں کے گھر تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اونٹینیوں اور بکریوں کا دودھ بھیجتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے تھے اور کچھ دودھ ہمیں بھی پلا دیتے تھے۔ 3۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ نہ آپ نے کبھی بُھنی ہوئی ثالم بکری دیکھی تھی‘‘۔ (رواہ البخاری)۔ 4۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا بھوک سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ پیٹ بھرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ردی کھجور بھی نہیں پاتے تھے۔ 5۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی بودار چربی لے کر گئے تاکہ اس کو سالن بنا کر جو کی روٹی اس کے ساتھ کھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کے ہاں اپنی زرہ گروی رکھ کر اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ جو حاصل کئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’کسی شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاع (تقریباً پونے تین سیر) جو اور نہ ایک صاع گندم موجود رہی ہے‘‘۔ 6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی متواتر راتیں بھوکے گذارتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال بھی رات کا کھانا نہیں پاتے تھے۔ زیادہ تر ان کی روٹی جو کی ہوتی تھی۔ (روہ احمد)۔ 7۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک متواتر کبھی جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ (متفق علیہ)۔ 8۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ’’اے اللہ! آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنا رزق مقرر فرما جو بھوک کا ازالہ کر سکے‘‘۔ (بیسار خوری کی ضرورت نہیں)۔ (متفق علیہ)۔