شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو
پہلی حدیث: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیساتھ بیٹھے ہوئے ہیں)
الرسول: ’’مجھے قرآن پڑھ کر سنا‘‘۔
ابن مسعود: ’’کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ قرآن تو نازل ہی آپ پر ہوا ہے‘‘۔
الرسول:’’میں پسند کرتا ہوں کہ میں کسی دوسرے سے قرآن سنوں‘‘۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ النسآء کی تلاوت کرتے ہیں، جب وہ اس آیت پر پہنچے: ﴿فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا﴾ (سورۃ النسآء:41) ’’کس طرح حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب پر گواہ بنائیں گے‘‘۔
الرسول:’’اب بس کیجئے، اتنا ہی کافی ہے‘‘۔
ابن مسعود:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہیں تو آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں (متفق علیہ)۔
اس حدیث یہ فائدہ اور نتیجہ حاصل ہوتا ہے:
1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قارئ قرآن سے کہنا (حسبک الآن) ’’اب کافی ہے‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا: ’’صدق اللہ العظیم‘‘ (اللہ عظمت والے نے سچ فرمایا ہے‘‘
2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے سے قرآن سننا پسند کرتے تھے۔
3۔قرآن سننے کے وقت خشوع رونے سے ہوتا ہے نہ کہ چیخنے چلانے سے۔
دوسری حدیث: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے بیٹے ابراہم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دایہ کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیم رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اس کو بوسہ دے رہے تھے اور اسے سونگھ رہے تھے۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ انہوں نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو موت و حیات کی کشمکش میں پایا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔
عبدالرحمن بن عوف : اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں؟
الرسول: ’’بیشک یہ رحمت ہے۔ آنکھ روتی ہے اور دل غمزدہ ہے۔ ہم وہی بات کریں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے۔ ہم یقیناًتیری جدائی سے اے ابراہیم غمزدہ ہیں‘‘۔
اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے:
1۔میت پر بغیر چیخ و پکار اور نوحہ کئے رونا جائز ہے۔
2۔میت پر غم کھانے کا جواز بشرطیکہ ایسے کلام سے بچا جائے جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہو
3۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا اور اس پر سرِ تسلم خم کر دینا۔
4۔صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب طلب کرنا۔