شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا

1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے دیکھ لیا اس لئے کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا‘‘۔ (رواہ البخاری)۔ 2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس نے مجھے (خواب میں)دیکھ لیا اس نے بالکل صحیح طور پر مجھے دیکھ لیا۔ اس لئے کہ شیطان میرا لباس نہیں پہن سکتا(متفق علیہ)۔ 3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہ جلد مجھے بیداری میں بھی دیکھ لے گا اور شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا‘‘۔ (متفق علیہ) ان احادیث کے نتائج 1۔بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا، اسی صورت پر دیکھنا ممکن ہے جو آپ کی سیرت میں ذکر کی گئی ہے۔ یعنی جو لمبائی، رنگ، کیفیت اور داڑھی وغیرہ کا آپ کی طبیعت اور خلقت میں ذکر کیا گیا ہے۔ 2۔الماوی رحمہ اللہ نے ان احادیث کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح دیدار یہ ہے کہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی صورت میں دیکھے جو صحیح احادیث میں ثابت ہے۔ اگر اس کیفیت کے علاوہ کسی اور شکل میں دیکھے جیسے زیادہ لمے یا زیادہ چھوٹے قد یا تیز گندمی زرد رنگ میں دیکھے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ 3۔الماوی نے ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا ’’وہ مجھے بیدار میں بھی جلد دیکھے گا‘‘ یہ مطلب ہے کہ وہ مجھے قیامت کے دن شفاعت کے وقت ضرور دیکھ لے گا 4۔بعض صوفی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کی حالت میں دیکھتے ہیں، اس بارے میں وہ تیسری حدیث کا سہارا لیتے ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کا رد کیا ہے کہ یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے (جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا) اور ان میں سے جو مجھے دنیا میں نہ دیکھ سکے وہ قیامت کے دن ضرور دیکھ لیں گے۔ اور یہ بات کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد بھی دنیا میں دیکھتے ہیں، کوئی مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ 5۔مؤلف کہتا ہے کہ میں نے ایک صوفی کی کتاب میں پڑھا ہے: ’’ابو المواھب الشاذی نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر تک اس نے جھوٹی حدیث بیان کی‘‘۔ میں نے اس کتاب کے مؤلف سے پوچھا کیا یہ حدیث بیان کرنے والا صحابی ہے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ اس کے راوی اور ابو الحسن شاذی کے درمیان پانچ مشائخ ہیں۔ اور شاذی نے بیداری کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ میں نے اس سے کہا: صحابہ رضی اللہ عنہم نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کی حالت میں نہیں دیکھا۔ وہ میری بات سے مطمئن نہ ہوا۔ میں نے اپنے جی میں کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولا گیا ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کے ذریے ڈرایا ہے: ’’جس نے میرے متعلق جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے‘‘ (متفق علیہ)۔ 6۔شیخ الاسلام زکریا انصاری رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ شیخ الاسلام نے کہا: اس کی بات سے نفرت کی جائے یا حرام سمجھا جائے۔ علماء نے صراحت کی ہے کہ خواب سے احکام اخذ نہ کئے جائیں۔ 7۔ابن عربی کی طرح بعض صوفیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست احکام حاصل کرتے ہیں اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے خلاف ہے: ﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ (سورۃ المآئدہ:30) ’’آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور دین کے طور پر اسلام کو تمہارے لئے پسند کر لیا‘‘۔ 8۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد دنیا میں بیداری کی حالت میں جو شخص آپ کی زیارت کا دعویٰ کرتا ہے اس کے خلاف بہت بڑا رد اور جواب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْن﴾ (المؤمنون:100) ’’اور ان کے پیچھے اس دن تک پردہ ہے جب لوگ اٹھائے جائیں گے‘‘۔