شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک رحمت کا مقام
1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنِ﴾ (الاَنبیاء:106)۔
’’اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔
2۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’مجھے رحمت کے ساتھ بھیجا گیا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم)۔
3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’میں بلاشبہ حقیقی رحمت ہوں‘‘۔ (رواہ الحاکم)۔
4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمت نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا‘‘۔ (متفق علیہ)۔
5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’رحمت سے بدبخت ہی کو محروم کیا جاتا ہے‘‘ (رواہ الترمذی)
6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’رحم کرنے والوں پر رحمن تبارک و تعالیٰ رحم کرتا ہے۔ اہل زمین پر رحم کرو۔ آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔ (رواہ احمد وغیرہ)۔
7۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع رضی اللہ عنہ بن حابس تمیمی موجود تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔ (متفق علیہ)۔
8۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دیہاتی (صحرائی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ہم تو نہیں دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں (تیرے دل میں رحمت پیدا کرنے کا) اختیار رکھتا ہوں‘‘؟۔
9۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت رحمدل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو (سائل بھی) آتا تھا۔ اس سے کچھ دینے کا وعدہ کرتے تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ہوتا تو اسے عطا کر کے وعدہ پورا کر دیتے تھے۔
10۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اپنے اہل و عیال کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ رحم کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا‘‘۔ (رواہ مسلم)۔