شمائل نبویہ ﷺ

حیوانوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت

1۔سیدنا سہیل بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گذرے (بھوک کی وجہ سے) جس کی پیٹھ اس کے پیٹ سے لگ چکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان بے زبان مویشیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اچھی حالت میں ان پر سواری کرو اور اچھی صحتمند حالت میں ان کا گوشت کھاؤ‘‘۔ (رواہ ابوداؤد)۔ 2۔سیدنا عبداللہ اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے بیان کیا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لئے گئے۔ ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو چوزے (اس کے بچے) تھے۔ ہم نے اس کے دونوں چوزے پکڑ لئے۔ وہ چڑیا آ کر پریشانی سے اڑنے لگی، پر پھڑپھڑانے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حاجت سے واپس) آ کر فرمای: ’’اس پرندے کو کسی نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کی اولاد اس کے حوالے کر دو‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے اس (گھروندے) کو جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا: ہم نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی آدمی کے لائق نہیں ہے کہ آگ کے مالک (اللہ تعالیٰ) کے سوا کسی چیز کو آگ کے ساتھ عذاب دے‘‘۔ (رواہ احمد وغیرہ)۔ 3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلی کے لئے برتن کو جھکا دیتے تھے۔ وہ پانی پی لیتی تو اس کے بچے ہوئے پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیتے تھے۔ (رواہ الطبرانی)۔ 4۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ نے ہر چیز پر احسان فرض کیا ہے۔ سو جب تم قتل کرو تو قتل میں بھی احسان سے کام لو۔ (یعنی ایک ایک عضو کاٹ کر قتل نہ کرو۔ یکدم قتل کر دیا کرو)۔ جب تم جانور کو ذبح کرو تو ذبح بھی اچھے طریق سے کرو۔ ذبح کرنے والا اپنی چھری کی دھار کو تیز کر لے۔ اور ذبح ہونے والے جانور کو زیادہ تکلیف نہ پہنچائے (بلکہ تیز چھری سے اسے راحت پہنچائے)۔ (رواہ مسلم)۔ 5۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گذرے جو بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھری تیز کر رہا تھا۔ بکری اسے دیکھ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو اسے دو دفعہ مارنا چاہتا ہے؟ تو نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کو تیز کیوں نہ کر لی‘‘؟ (رواہ الحاکم علی شرط الشیخین)۔ 6۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک عورت کو ایک کے بارے میں عذاب دیا گیا۔ جسے اس نے قید کر رکھا تھا۔ اس بناء پر وہ آگ میں داخل ہوئی۔ اسے بند کرنے کے بعد نہ اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی‘‘ (رواہ البخاری)۔