شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل و انصاف
1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿اِنَّ اللّٰه یَأمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾ (سورۃ النحل:60)۔
’’بیشک اللہ تعالی عدل و احسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔
2۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہلوایا: ﴿اُمْرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ﴾ (سورۃ الشوریٰ:15)۔
3۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’’قریش کو مخزومیہ عورت کی حالت نے فکر مند کر دیا جس نے چوری کی تھی۔ وہ کہنے لگے: اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ دوسرے صحابہ نے کہا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ یہ جرأت کون کر سکتا ہے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہے۔ لہٰذا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی (سفارش کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ کی سی حد میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے ہلاک کیا: جب کوئی ان کا شریف (بڑا) آدمی چوری کر لیتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور (کم حیثیت) آدمی چوری کر بیٹھتا تھا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کر لیتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے: اس کی بہت اچھی توبہ ہوئی بعد میں اس نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی۔ میں اس کی حاجت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیان کر دیتی تھی۔ (متفق علیہ)۔