شمائل نبویہ ﷺ
نماز اور لوگوں کے لئے زینت اختیار کرنا
1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’تم میں سے اگر کوئی ایک یا تم سب مالی ہمت پاؤ تو محنت اور مزدوری کے دو کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن دو اچھے کپڑے پہننے میں کیا حرج ہے؟ یا کوئی حرج نہیں ہے‘‘۔ (رواہ ابوداؤد)۔
2۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیْ: ہم بنی انمار کے غزوہ کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ میں ایک درخت کے نیچے تھے۔ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دھوپ میں) کھڑے تھے۔
جابر:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !سائے کے نیچے تشریف لائیے۔
الرسول:آتے ہیں۔ سلام کہتے ہیں اور اتر آتے ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ چھوٹی چھوٹی ککڑیاں لا کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتے ہیں۔
الرسول:یہ کہاں سے لائے ہو؟
جابر:ہم یہ مدینے سے لائے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا چرواہا آتا ہے۔ اس پر دو پرانی بوسیدہ چادریں تھیں۔ اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔
الرسول:کیا اس کیلئے ان کے علاوہ دو کپڑے نہیں ہیں؟۔
جابر:کیوں نہیں؟ اس کے لئے زنبیل میں دو کپڑے ہیں جو میں نے اسے پہنائے تھے۔
الرسول:’’اسے بلا۔ وہ ان دونوں کپڑوں کو پہن لے‘‘۔ چرواہا آ کر دونو کپڑے پہن کر چلا جاتا ہے۔
الرسول:اسے کیا ہوا؟ اُسے کیا ہوا۔ اللہ اس کی گردن مارے! کیا یہ بھلائی نہیں ہے۔ (یعنی اس نے تامل نہیں کیا اور فوراً چلا گیا۔ زینت پر ہماری نظر ہی نہیں پڑی)۔ چرواہا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ ’’اللہ اس کی گردن مارے‘‘ سے نیک فال لیتا ہے اور پوچھتا ہے: اللہ کی راہ میں اے اللہ کے رسول؟
الرسول:ہاں اللہ کی راہ میں۔ پھر وہ چرواہا الہ کی راہ میں شہید ہو جاتا ہے۔ (رواہ الامام مالک والحاکم)۔