شمائل نبویہ ﷺ
اسلام میں صفائی کا مقام
1۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پراگندہ بکھرے ہوئے بالوں والا آدمی دیکھا تو فرمایا: ’’کیا اس کے پاس کوئی چیز (تیل کنگھی وغیرہ) نہیں ہے جس سے اپنے بالوں کو درست (set) کر لیتا‘‘؟ ایک اور آدمی کو دیکھا جس کے کپڑے میلے تھے تو فرمایا: ’’کیا اس کے پاس ایسی کوئی چیز (صابن وغیرہ) نہیں ہے جس سے اپنے کپڑے دھو لیتا‘‘؟ (رواہ احمد وغیرہ)۔
2۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس کیبال ہوں تو وہ ان کی عزت کرے‘‘۔ (رواہ ابوداؤد)۔
3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’دس خصلتیں فطری ہیں: مونچھوں کا کترنا، داڑھی کا بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے خلا اور گرہوں کو اچھی طرح دھونا، بغلوں کے بال نوچنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، استنجاء کرنا اور کلی کرنا۔ (رواہ مسلم)۔
4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’پانچ چیزیں فطری ہیں (یعنی فطرت ان پر عمل کرنے کا تقاضا کرتی ہے)۔ ختنہ کرنا، زیرِ ناف بالوں کو مونڈنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال نوچنا اور مونچھیں کترنا‘‘۔ (متفق علیہ)۔