شمائل نبویہ ﷺ

ہاتھ چومے بغیر مصافحہ کرنا

1۔سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم مصافحہ کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ’’جی ہاں‘‘۔ (رواہ البخاری)۔ 2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو بھی دو مسلمان آپس میں ملاقات کیوقت مصافحہ کرتے ہیں، ان کے جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے‘‘۔ (رواہ ابوداؤد وغیرہ و حدیث حسن)۔ 3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’کل تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل اسلام کے لئے تم سے زیادہ نرم ہیں۔ (یعنی اہل یمن) پھر اشعری قبیلے کے لوگ آئے ان میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ مدینے کے قریب آئے تو وہ درج ذیل رجزیہ شعر پڑھنے لگے: غداً نلقی الأحبۃ محمد و صحبۃ ’’کل ہم اپنے دوستوں محمد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ملاقات کریں گے‘‘ (کسی کی محبت میں کہے گئے یا جنگی اشعار کو رجزیہ اشعار کہتے ہیں۔ مترجم)۔ جب وہ آئے انہوں نے مصافحہ کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے مصافحہ کیا تھا۔ (رواہ احمد)۔ 4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مومن جب مومن سے مل کر اسے سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کی خطائیں اس طرح جھڑ جاتی ہیں جس طرح (خزاں میں) درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ (صحیح۔ اسے منذر نے ’’ترغیب‘‘ میں ذکر کیا ہے)۔ 5۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملتا ہے تو کیا اس کے سامنے جھکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ پھر اس نے کہا: کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘۔ اس آدمی نے پھر پوچھا: اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں‘‘۔ (حسن۔ رواہ الترمذی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم جب سفر سے واپس آتے تھے تو آپس میں گلے ملتے تھے۔ رہا ہاتھ کو بوسہ دینا تو اس بارے میں احادیث اور آثار بہت سے ہیں جن کا مجموعہ بوسہ دینے کے ثبوت کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے۔ ہمکسی عالم فاضل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز سمجھتے ہیں جب وہ خود تکبر سے اپنا ہاتھ نہ بڑھائے نہ برکت حاصل کرنے کے لء بوسہ دیا جائے، نہ بوسے دینے کو عادت بنایا ، نہ مصافحہ کو ترک کیا جائے اور نہ پیشانی پر بوسہ دیا جائے۔ (محض اظہارِ محبت کے لئے کبھی کبھی ہاتھ کو بوسہ دیا جا سکتا ہے۔ مترجم) ۔ (جس سلسلہء احادیث کو البانی نے صحیح کہا ہے اس سے اختصار کے ساتھ خلاصہ نقل کیا گیا ہے)۔