شمائل نبویہ ﷺ

میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا

1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ میرا ایک عورت سے بیعت وغیرہ کے سلسلہ میں کوئی بات کہنا، ایک سو عورتوں سے بات کرنے کے برابر ہے‘‘۔ (یعنی سو عورتوں کے لئے بھی وہ بھی وہی بات کافی ہے۔ مترجم)۔ (رواہ الترمذی۔ حسن)۔ 2۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے وقت کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے اسی بات (ہاتھ کے) کے ساتھ بیعت نہیں کی ہے ’’میں نے تجھ سے اس امر پر بیعت کی ہے‘‘۔ (رواہ البخاری)۔ 3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’تمہارے کسی آدمی کے سر میں لوہے کی سوئی سے کچھ مارا جائے تو اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے‘‘۔ (رواہ الطبرانی)۔ (اس دور کے جاہل مسلمان اپنی بہو بیٹیاں، بے دین ملنگوں کے حوالے کر دیتے ہیں، جو ان کے ساتھ ہر طرح چھیڑ چھاڑ کے لئے آزاد ہوتے ہیں۔ محض چھونے کی تو بات ہی کیا ہے؟ مترجم)۔