شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ

اشعار کا ترجمہ احمد شونی کے دیوان سے یامن لہ الأخلاق ما تہوی العُلا منہا وما یتعشق الکبراء ’’ اے وہ ہستی جس کے اخلاق بلندی کی طرف رخ کرتے ہیں او رجن کے بڑے بڑے لوگ عاشق ہوتے ہیں ‘‘۔ لو لم تقم دیناً لقامت وحدھا دیناً یضیء بنورہ الآناء ’’اگر آپ اس دین کو نہ بھی قائم کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تنہا دین کی حیثیت اختیار کرلیتے جو اپنے نور سے زمانوں کو روشن کر دیتا‘‘۔ زانتک فی الخلق العظیم شمائل یغری بہن و یولع الکرماء ’’ اخلاقِ عالیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و فطرت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینت بخشی ہے زمانے کے کریم و انحراف جس کے مشتاق اور گرویدہ ہیں ‘‘۔ وإذا سخوت بلغت بالجود المدی و فعلت مالا تفعل (الکرماء ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت کرتے ہیں تو جود و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہاء تک پہنچ جاتے ہیں اور ایسا عمل کرتے ہیں جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے‘‘۔ و إذا عفوت فقادراً و مقدراً لا یستھین بعفوک الجھلاء جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام پر قادر ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگذر کرتے ہیں جاہل لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی در گزر کو حقیر یا کمزوری نہ سمجھیں ‘‘۔ و إذا رحمت فأنت أُمُّ أو أبٌ ھذانِ فی الدنیا ھُما الرُّحَماء جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحم کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ کی طرح ہوتے ہیں دنیا میں یہ دونوں (ماں باپ) مہربان ہوتے ہیں ‘‘۔ وإذا غضبت فإنما ھی غضبۃ فی الحق لا ضغن ولا بغضاء ’’ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوتے ہیں تو یہ غصہ حق کی خاطر ہوتا ہے کینے اور ذاتی بغض کی وجہ سے نہیں ہوتا‘‘۔ و إذا رضیت فذاک فی مرضاتہ ورضا لکثیر تحلم وریاء ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم راضی وہتے ہیں تو یہ رضا مندی اللہ کی رضا کی وجہ سے ہوتی ہے اکثر لوگوں کی رضامندی محض برداشت دکھاوے کیلئے ہوتی ہے‘‘۔ وإذا خطبت فللمنابر ھزۃ تعرو الندی و للقلوب بکاء ’’ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کرتے ہیں تو منبر متحرک ہوجاتا ہے‘‘۔ وإذا قضیت فلا ارتیاب کأنما جاء الخصوم من السماء قضائُ ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا گویا کہ جھگڑنے والے فریقوں کے پاس آسمانی فیصلہ آجاتا ہے ‘‘۔ وإذا أخذت العھد أو أعطیتہ فجمیع عھدک ذمۃ ووفاء ’’ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے عہدو پیمان کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہدو پیمان اور ذمہ داری کو پورا کرتے ہیں ‘‘۔ بک یا ابن عبداللّٰہ قامت سمحۃ بالحق من ملل الھدی غراء ’’ اے عبداللہ کے بیٹے صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت یافتہ عقلمند لوگ حق کی بنا پر نرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ‘‘۔ بنیت علی التوحید وھی حقیقۃ نادی بہا (الحکماء والعقلاء) ’’ توحید کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسی عمارت تشکیل پائی ہے کہ دنیا کے تمام عقلمند لوگ اس بنیاد(لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے ہیں ‘‘۔ اللّٰہ فوق اللّٰه الخلق فیہا وحدہ والناس تحت لواءا أکفاء ’’ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے بالا تر ہے وہ تنہا ہے اور لوگ اس دین کے جھنڈے تلے برابر ہیں ‘‘۔ والدین یسر والخلافۃ بیعۃ والأمر شوری والحقوق قضائُ ’’ دین آسان ہے اور خلافت بیعت سے وجود پاتی ہے سیاسی امور مشورے سے اور حقوق العبادکی ادائیگی لازم ہے‘‘۔ أنصفت أھل الفرق من أھل الغنی فالکل فی حق الحیاۃ سواء ’’ محتاج اور دولتمند لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف کیا ہے لہذا جینے کے حق میں سب کے سب برابر ہیں ‘‘۔ ظلموا شریعتک التی نلنا بہا مالم ینل فی رومۃ الفقہاء ’’لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ظلم کیا ہے جس سے ہم نے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو اہل علم و فکر نے رومۃ الکبریٰ سے بھی حاصل نہیں کیاتھا‘‘۔ صلّٰی علیک اللّٰہ ما صحب الدجی حاد وْنت بالفلا و جناء ’’ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے جب تک رات کی تاریکی میں حدی خواں حدی خوانی کرے ۔ اور بے آب و گیاہ صحرامیں کوئی درد مند جوان عورت اپنی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ سے درد مندانہ دعا کرے۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہیں عدمنا خیلنا إن لم تروھا یثیر النقع موعدھا کذاء ’’ہمارے گھوڑے باقی نہ رہیں اگر تم انہیں مقام کدا میں غبار اڑاتے ہوئے نہ دیکھو‘‘۔ یبارین الأسنۃ مصعدات علی أکتافھا الأسل الظماء ’’ وہ بلندیوں پر تیزی سے چڑھ رہے ہیں ان کے کندھوں پر خون کے پیاسے عمدہ نیزے ہیں ‘‘۔ تظل جیادنا متمطرات تلطمھن بالخمر النساء ’’ ہمارے عمدہ گھوڑے دوڑنے کے لئے زمین پر پاؤں مار رہے ہیں عورتیں اپنی اوڑھنیاں ان کے منہ پر مار کر انہیں روک رہی ہیں‘‘۔ فإما تعرضوا عنا اعتمدنا و کان الفتح وانکشف الغطاء ’’ یا تو ہم سے اعراض کر لو (سامنا نہ کرو) ہمیں اعتماد و یقین ہے کہ فتح ہمارا مقدر ہوچکی ہے اور پردہ اٹھ گیا ہے‘‘۔ وإلا فاصبروا الجلاد یوم یعز اللہ فیہ من یشاء ’’ یا قتال کے دن تک صبر کرو اسی میں اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا عزت دے گا‘‘۔ و جبریل أمین اللّٰہ فینا و روح القدس لیس لہ کفاء ’’ ہم میں روح القدس جبریل امین ہیں جان کا کوئی ہمسر نہیں ہے‘‘۔ و قال اللّٰہ قد رسلت عبدا یقول الحق إن نفع البلاء ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : میں نے اپنا ایسا بندہ رسول بنا کر بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے یقیناًآزمائش اور یاددھانی نفع دیتی ہے‘‘۔ شھدت بہ فقوموا صدقوہ فقلتم لانقوم ولا نشاء ’’ میں اس کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں اٹھو اس کی تصدیق کرو۔ مگر تم نے کہا : ہم نہیں کھڑے ہوتے نہ ہم اسے چاہتے ہیں ‘‘۔ ألا أبلغ أبا سفیان عنی فأنت مجوف نخب ھواء ’’ سنو ابو سفیان کو میری طرف سے پیغام پہنچادو کہ تو کھوکھلا بزدل اور ناتوان ہے‘‘۔ بأن سیوفنا ترکتک عبدا و عبدا الدار سادتھا الإماء ’’ ہماری تلواروں نے تجھے غلام بنا کر چھوڑا ہے اور قبیلہ عبدالدار کی سرداری تو لونڈیاں ہی کرتی ہیں ‘‘۔ ھجوت محمدا فأجبت عنہ و عند اللّٰہ فی ذاک الجزاء ’’ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی بیان کی تو میں نے ان کی طرف سے جواب دیا ہے اس عمل میں میرے لئے اللہ کے نزدیک اجر و جزا ہے‘‘۔ أنہجوہ ولست لہ بکفء ؟ فشرکما لخیرکما الفداء ’’ کیا تو ان کی برائی بیان کرتا ہے؟حالانکہ تو ان کا ہمسر نہیں ہے تمہاری خیر اور بھلائی کا تمہارا شر ہی بدلہ ہے ‘‘۔(یعنی تم میں بھلائی برائے نام اور برائی بدرجہ کمال ہے)۔مترجم فمن یہجو رسول اللّٰہ منکم ویمدحہ و ینصرہ سواء ’’ تم میں سے جور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی بیان کرتا ہے یا تعریف اور مدد کرتا ہے۔تو یہ دونوں حیثیتیں برابر ہیں ‘‘۔(تمہارا برائی بیان کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی کمی نہیں کرتا نہ تمہارا تعریف کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ اضافہ کرتا ہے) فِان أبی ووالدہ وعرضی لعرض محمد منکم فداء میرا باپ دادا ، میری عزت و آبرو تمہارے مقابلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو پر قربان ہیں ‘‘۔ لسانی صارم لا عیب فیہ و بحری لا تکدرہ الدلاء ’’ میری زبان تیز تلوار ہے اس میں کوئی عیب اور خامی نہیں ہے اور میرے سمندر کو ڈولوں کی کثرت گدلا نہیں کرتی‘‘۔(یعنی میں تمہاری بد گوئی میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جتنا بھی کلام کروں اس میں (بحرکلام میں ) کوئی کمی نہیں آسکتی۔مترجم) (عقیدۂ مسلم ) ان کان تابع أحمد متوھبا فأنا المقر بأننی و ھای ’’ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار وھاب کو ماننے والا ہے تو میں اقرار کرتا ہوں کہ میں وھابی ہوں ‘‘۔ أنفی الشریک عن الإلٰہ فلیس لی رب سوی المتفرد الوہاب ’’ میں اللہ تعالیٰ سے ہر شریک کی نفی کرتا ہوں اکیلے وھاب کے سوا میرا کوئی رب نہیں ہے‘‘۔ لا قبۃ ترجی ولا وثن ولا قبر لہ سبب من الأسباب ’’نہ میں کسی قبے اور کسی بت سے کئی امید رکھتا ہوں اور نہ کسی قبر میں حاجت برآری کا کوئی ذریعہ سمجھتا ہوں ‘‘۔ کلا ولا حجر ولا شجر ولا عین ولا نصب من الأنصاب ’’ ہرگز نہیں ، کسی پتھر درخت چشمے اور کسی استھان میں سے حاجت برآری کی کوئی امید نہیں رکھتا ‘‘۔ أیضا ولست معلقا لتمیمۃ أو حلقۃ ، أو ودعۃ أو ناب ’’ بدنظری سے بچاؤ کیلئے میں کوئی تعویذ، کڑا، گھونگا اور دانت ہڈی وغیرہ بھی نہیں لٹکاتا‘‘۔ لرجاء نفع ، أؤ لدفع بلیۃ اللّٰہ ینفعنی ، ویدفع مابی میں مذکورہ بالا چیزوں میں فائدے اور مصیبت رفع کرنے کے کی امید نہیں رکھتا الہدی مجھے نفع دیتا اور میری تکلیف کو دور کرتا ہے‘‘۔ والا بتداع و کل أمر محدث فی الدین ینکرہ أولو الألباب ’’ ہر بدعت اور دین میں ہر ایسے نئے کام سے میں بیزار ہوں جس کا عقلمند لوگ انکار کرتے ہیں ‘‘۔ رجو بأنی لا أقاربہ ولا أرضاہ دینا وھو غیر صواب ’’ میں امید کرتا ہوں کہ جو کام غیر صحیح اور غلط ہو اس کے قریب نہیں جاؤنگا نہ ہی اسے دین سمجھ کر پسند کرونگا۔ و أعوذ من جھمیۃ عنہا عتت بخلاف کل مؤول مرتاب ’’ میں فرقہ جہمیہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس نے صحیح عقیدے سے سرتابی کی ہے اور ہیر پھیر کرنیوالے شکی آدمی کے خلاف بھی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔ والاستواء فإن حسبی قدوۃ فیہا مقال السادۃ الأنجاب ’’ إستوآء (اللہ کا عرش پر بلند ہونا) اس بارے میں میرے لئے وہی عقیدہ کافی ہے جو اشراف و اسلاف اسلام کے کلام سے ثابت ہے‘‘۔ لشافعی و مالک و أبی حنیفۃ و ابن ْنبل التقی الأواب ’’ اور وہ اسلاف امام شافعی، امام مالک ، امام ابو حنیفۃ اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ ہیں ۔ جو متقی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ‘‘۔ وبعصرنا من جاء متعقدا بہ صاحوا علیہ مجسم و ھابی ’’اور ہمارے زمانے میں جو شخص صحیح عقیدہ رکھتا ہے اسے گمراہ فرقہے مجسم وھابی کہتا ہے‘‘۔ جاء الحدیث بغربۃ الإسلام فلیبک المحب لغبۃ الأحباب ’’ اسلام کی غربت (اجنبیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وارد ہے اسلام سے محبت کرنے والے کو اب دوست احباب کی اجنبیت پر رونا چاہیئے‘‘۔یعنی جس طرح دین حق کو اجنبی خیال کیا جاتا ہے اسی طرح اسلام سے محبت کرنے والوں کو بھی اجنبی سمجھا جاتا ہے)۔ فاللّٰہ یحمینا ، ویحفظ دیننا من شر کل معاند سباب ’’ اب ہر دشمن اور برا بھلا کہنے والے کے مقابلہ میں اللہ تعالی ہی ہماری حمایت او رہمارے دین کی حفاظت کریگا‘‘۔ ویؤید الدین الحنیف بعصبۃ متمسکین بسنۃ و کتاب ’’ وہی دین حینف کو کتاب و سنت کے ساتھ وابستہ مضبوط جماعت کے ذریعے طاقت دیگا‘‘۔ لا یأخذون برأیہم وقیاسہم ولہم إلی الوحیین خیر مآب ’’ وہ (اہل حق) اہل رائے کے قیاس کو اختیار نہیں کریں گے ان کے لئے کتاب و سنت ہی بہتر ٹھکانہ ہے‘‘۔ قد أخبر المختار عنہم أنہم غرباء بین الأھل ولأصحاب ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہل حق کے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ اپنے اہل و اعیال اور دوست احباب میں بھی غریب(ان جانے ) ہیں ‘‘۔ سلکوا طریق السالکین إلی الھدی و مشوا علی منہاجہم بصواب ’’ وہ ہدایت کیطرف جانے والے لوگوں کی راہ پر چلتے ہیں اور صحیح طریقے سے وہ انہی کی راہ پر چل رہے ہیں ‘‘۔ من أجل ذا أھل الغلوا تنافروا عنہم فقلنا لیس ذا بعجاب ’’ اسی وجہ سے اہل غلو(زیادتی کرنے والے) ان سے نفرت کرتے ہیں ہم کہتے ہیں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ‘‘۔(اہل حق کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک کیا جاتا رہا ہے)۔ نفر الذین دعاہم خیر الوری إذ لقبوہ بساحر کذاب ’’ ان لوگوں نے نفرت کی جنہیں خیر الورٰی (پوری مخلوق سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دعوت دی تھی (اس دعوت پر) انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو گر اور کذاب کا لقب دیا تھا‘‘ (معاذ اللہ) مع علمہم مأمانۃ ودیانۃ فیہ و مکرمۃ، وصدق جواب ’’ باوجود اس کے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں امانت ، دیانت ، سخاوت اور سچائی کا اعتراف کرتے تھے‘‘۔ صلی علیہ اللّٰه ما ھب الصبا و علی جمیع الآل والأصحاب ’’ جب تک مشرقی ہوا چلتی رہے اللہ تعالی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ال و اصحاب پر رحمت بھیجتا رہے ‘‘۔